Friday, September 04, 2026 | 20 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • جنتر منتر: دہلی پولیس کے دعوے پر تنازعہ، 2,873 افراد کی شناخت پر اٹھے سوال

جنتر منتر: دہلی پولیس کے دعوے پر تنازعہ، 2,873 افراد کی شناخت پر اٹھے سوال

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: 04 Sept 2026

جنتر منتر: دہلی پولیس کے دعوے پر تنازعہ، 2,873 افراد کی شناخت پر اٹھے سوال
دہلی کے جنتر منتر پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں طلبہ کا احتجاج جولائی 2026 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا، جب مظاہرے کے دوران طلبہ، ان کے اہل خانہ اور پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے سمیت کئی پرتشدد واقعات سامنے آئے۔ احتجاج کی تحقیقات کے دوران دہلی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرے میں متعدد ایسے افراد بھی شامل تھے جن کا مجرمانہ پس منظر رہا ہے۔
 
پولیس کے مطابق چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے 2,873 ایسے افراد کی شناخت کی گئی جن کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج تھے۔ ان میں سے 205 افراد پر قتل، عصمت دری، پوکسو ایکٹ اور اقدام قتل جیسے سنگین الزامات ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے دیگر طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کی ہدایت دی، تاہم مبینہ طور پر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی۔لیکن میڈیا کی ایک رپورٹ نے دہلی پولیس کے چہرے کی شناخت کے دعوے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔  
 
رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے احتجاج میں موجود ’ہسٹری شیٹرز‘ کے طور پر شناخت کیے گئے تقریباً 25 افراد دراصل اس وقت جیل میں قید تھے۔ جیل اور عدالتی ریکارڈ سے مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ یہ افراد احتجاج کے دوران تہاڑ، منڈولی اور روہنی جیلوں میں بند تھے اور ان کی رہائی بھی نہیں ہوئی تھی۔ان 25 افراد میں 17 پر قتل، 4 پر عصمت دری اور 4 پر اقدام قتل کے الزامات تھے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر یہ افراد احتجاج کے مقام پر موجود ہی نہیں تھے تو چہرے کی شناخت کرنے والے نظام نے ان کی شناخت وہاں موجود افراد کے طور پر کیسے کی؟
 
میڈیا رپورٹ کے مطابق دہلی پولیس کی فہرست میں شامل 2,873 افراد میں سے 205 پر انتہائی سنگین جرائم کے الزامات تھے، جن میں 101 قتل، 61 عصمت دری، 6 پوکسو ایکٹ اور 37 اقدام قتل کے مقدمات شامل تھے۔ یہ معاملہ اب دہلی پولیس کے چہرے کی شناخت کے نظام کی درستگی، ڈیٹا کی جانچ اور شناخت کے طریقہ کار پر اہم سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ اگر جیل میں موجود افراد کو بھی احتجاج میں شامل قرار دیا گیا، تو پھر پولیس کی جانب سے جاری کردہ مکمل فہرست کی ساکھ اور اس بنیاد پر کی گئی کارروائی بھی سوالوں کے گھیرے میں آ سکتی ہے۔
riminal Elements Infiltrated 'Cockroach Janta Party' Protest at Jantar Mantar in July 2026