سوتنتر بھاردواج کے مبینہ حملے سے متعلق معاملے میں دہلی پولیس پر کارروائی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ بھاردواج پر الزام ہے کہ انہوں نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے احتجاج کے دوران نشو آزاد کے والد سنجے کمار پر شدید حملہ کیا۔ اب سی جے پی کے لیڈروں آشوتوش رانکا اور سورو داس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں نئی ایف آئی آر درج کی جائے۔ اس معاملے میں پہلے ہی ایک ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، تاہم سی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ ایف آئی آر میں ان الزامات کے مطابق سخت قانونی دفعات شامل نہیں کی گئیں جن کا دعویٰ خود سوتنتر بھاردواج کی جانب سے کیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دہلی پولیس کے سامنے اصل قانونی پیچیدگی کیا ہے؟میڈیا رپورٹ کے مطابق، اس معاملے میں ایف آئی آر پہلے ہی درج کی جا چکی ہے اور پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ سنجے کمار کو شدید نوعیت کی چوٹیں نہیں آئیں۔ تاہم، پولیس تحقیقات کے دوران اگر نئے شواہد یا حقائق سامنے آتے ہیں تو چارج شیٹ میں مزید قانونی دفعات شامل کی جا سکتی ہیں۔ لیکن ایسی صورت میں پولیس کو یہ وضاحت بھی دینی ہوگی کہ ابتدائی ایف آئی آر درج کرتے وقت ان دفعات کو کیوں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
پولیس کے پاس اس حوالے سے یہ مؤقف اختیار کرنے کا راستہ موجود ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ نئے حقائق سامنے آئے، جن کی بنیاد پر اضافی دفعات شامل کی گئیں۔ تاہم، یہ معاملہ قانونی طور پر کتنا مضبوط ہوگا، اس کا انحصار تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد پر ہوگا۔دوسری جانب، اگر دہلی پولیس اب اسی واقعے پر ایک نئی ایف آئی آر درج کرتی ہے تو اس سے ایک الگ قانونی سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں یہ تاثر بن سکتا ہے کہ پہلے درج کی گئی ایف آئی آر میں کوئی کمی یا خامی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کے لیے اگلا قدم انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
سی جے پی کے رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر سوتنتر بھاردواج کے مبینہ اعتراف یا دیگر شواہد سے حملے کی تصدیق ہوتی ہے تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔فی الحال دہلی پولیس کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ وہ نئی ایف آئی آر درج کرے گی یا موجودہ مقدمے کی تحقیقات کے دوران ہی مزید دفعات شامل کرے گی۔ اب سب کی نظریں پولیس کے اگلے لائحہ عمل پر ہیں، کیونکہ دونوں صورتوں میں پولیس کو اپنے فیصلے کی قانونی بنیاد واضح کرنا ہوگی۔






