نیپال میں تباہ کن سیلاب کے تقریباً 9 دن بعد ہائیڈرو پاور منصوبے کے دو کارکنوں کو سرنگ سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ دونوں کارکن 26 اگست کوپیش آئے شدید سیلاب کے بعد ملبے کے نیچے دبی سرنگ میں پھنس گئے تھے۔ وزیر توانائی براج بھکتا شریسٹھا نے تصدیق کی کہ ترشولی 3A ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے ایک کارکن کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ کچھ دیر بعد دوسرے کارکن کو بھی بچا لیا گیا۔ بچائے گئے کارکنوں کی شناخت 45 سالہ کبیر مہارجن اور 30 سالہ سنجے ساہ کے طور پر ہوئی ہے۔ نیپالی فوج کے مطابق کبیر مہارجن منصوبے میں مکینیکل سپروائزر جبکہ سنجے ساہ فورمین کے طور پر کام کرتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سنجے ساہ کو معمولی نوعیت کی چوٹیں ہیں، جبکہ کبیر مہارجن اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے سے قاصر ہیں۔ دونوں کو علاج کے لیے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا ہے۔
سرنگ کے اندر سے آوازیں سنائی دیں
نیپالی فوج کی قیادت میں سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم سرنگ میں پھنسے دیگر افراد کو تلاش کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن کر رہی تھی۔ ریسکیو ٹیم نے سرنگ کے اندر سے آوازیں سننے کے بعد وہاں موجود لوگوں سے رابطہ قائم کیا، جس کے بعد انہیں نکالنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔نیپالی فوج اور مسلح پولیس فورس کے اہلکاروں نے خصوصی آلات کی مدد سے سرنگ تک رسائی حاصل کی اور دونوں کارکنوں کو باہر نکال لیا۔
سیلاب سے ہلاکتیں 1282 تک پہنچ گئیں
نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1282 ہو گئی ہے، جبکہ 4798 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ 26 اگست کو نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب برفانی تودے گرنے کے بعد آنے والے سیلاب نے شمالی اور وسطی نیپال کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ نیپال پولیس کے مطابق چتوان میں 359، نوال پراسی ایسٹ میں 218، نوال پراسی ویسٹ میں 208، نوواکوٹ میں 185، رسووا میں 140، گورکھا میں 72، دھادنگ میں 60 اور تناہو میں 38 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ کھٹمنڈو کے اسپتالوں میں علاج کے دوران مزید دو افراد کی موت ہوئی۔
تقریباً 600 بچے لاپتہ
رسووااورنوواکوٹ اضلاع میں تقریباً 600 بچے بھی لاپتہ ہیں۔ مقامی تعلیمی اداروں اور حکام کے مطابق رسووا میں تقریباً 280 جبکہ نوواکوٹ میں 300 سے 350 بچوں کے لاپتہ ہونے کا اندازہ ہے۔نوواکوٹ کے تعلیمی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسکولز کے سربراہان سے رابطہ کرکے لاپتہ طلبہ کے درست اعداد و شمار جمع کر رہے ہیں، مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے معلومات کی تصدیق میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بیدور میونسپلٹی میں بھی تقریباً 250 بچوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ حکام کے مطابق کچھ زندہ بچ جانے والے والدین اپنے بچوں کو تلاش کر رہے ہیں، جبکہ کچھ بچے اپنے لاپتہ والدین کی تلاش میں ہیں۔
اساتذہ اور اسکول عملہ بھی لاپتہ
سیلاب سے تعلیمی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ رسووا اور نوواکوٹ میں22 اساتذہ اور اسکول عملے کے ارکان لاپتہ ہیں۔ رپورٹس کے مطابق رسووا میں 16 اساتذہ لاپتہ ہیں، جن میں 15 سرکاری کمیونٹی اسکولز اور ایک نجی ادارے سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ نوواکوٹ میں 6 اساتذہ کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ نیپال میں سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیمیں مختلف متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہائیڈرو پاور کے ماہرین نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا ہے جس میں 500 سے زیادہ افراد شامل ہو چکے ہیں۔ اس گروپ کے ذریعے سرنگوں کے نقشے، پرانے ملازمین کی معلومات اور دیگر تکنیکی تفصیلات ریسکیو ٹیموں تک پہنچائی جا رہی ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔







