اتر پردیش میں رام مندر کے نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کے طور پر ریٹائرڈ ایئر مارشل جتیندر مشرا کی تقرری کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کے درمیان جن سوراج کے بانی اور بانکی پور سے ایم ایل اے پرشانت کشور نے بھی اس معاملے پر اہم بیان دیا ہے۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا ٹرسٹ (Shri Ram Janmabhoomi Teerth Kshetra) کے پہلے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے طور پر جتیندر مشرا کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ صرف نئے شخص کی تقرری سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو رام مندر سے متعلق چوری اور غبن کے الزامات کا جواب دینا چاہیے اور ملک کے ہندو عقیدے کے اس اہم مرکز کے معاملے میں مزید سنجیدہ کارروائی کی ضرورت ہے۔
پرشانت کشور نے یہ بیان گیا، بہار میں ایک پروگرام کے دوران دیا۔ وہ گزشتہ جمعرات کو ’ٹیچر ڈائیلاگ اور سٹیزن فلیسیٹیشن‘ تقریب میں شریک ہوئے تھے، جس کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی اور مختلف سیاسی و سماجی امور پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر جیسے حساس اور اہم مذہبی مقام کے انتظام سے متعلق اٹھنے والے سوالات کو محض کسی نئے عہدیدار کی تقرری سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، اگر کوئی الزام سامنے آیا ہے تو اس کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داری طے کرنا ضروری ہے۔
دریں اثنا، پرشانت کشور نے ملک کی جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پہلے بھی اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق، کئی برسوں سے ماہرین کی جانب سے حکومت کے جاری کردہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ حکومت معیشت کی بہتر صورتحال کی بات کرتی ہے، لیکن عام لوگوں کی زندگیوں میں اس بہتری کے واضح آثار نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان روزگار کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کو بھی اپنے حالات میں نمایاں بہتری محسوس نہیں ہو رہی۔
بہار کی تعلیم اور اساتذہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جن سوراج کے بانی نے ریاستی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں اساتذہ کی حالت اسی وقت بہتر ہوسکتی ہے جب ریاست میں تعلیم کی مجموعی صورتحال بہتر ہو۔ پرشانت کشور نے الزام لگایا کہ تعلیم بہار کے معاشرے اور حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ریاست کی ترقی کے لیے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا اور اساتذہ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ضروری ہے۔







