Friday, September 04, 2026 | 20 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایسٹونیا کے وزیر دفاع کا استعفیٰ، یوکرین کے لیے 70 ملین یورو کے گولہ بارود معاہدے پر تنازع

ایسٹونیا کے وزیر دفاع کا استعفیٰ، یوکرین کے لیے 70 ملین یورو کے گولہ بارود معاہدے پر تنازع

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 04 Sept 2026

ایسٹونیا کے وزیر دفاع کا استعفیٰ، یوکرین کے لیے 70 ملین یورو کے گولہ بارود معاہدے پر تنازع
ایسٹونیا کے وزیر دفاع ہانو پیوکور  نے یوکرین کے لیے گولہ بارود خریدنے کے ایک متنازع معاہدے کی سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ معاہدہ اٹلی میں رجسٹرڈ ایک ایسی کمپنی سے کیا گیا تھا جسے رواں سال ایک بھارتی ملکیتی کمپنی نے خریدا تھا۔ اس معاہدے کے تحت یوکرین کے لیے تقریباً 70 ملین یورو یعنی 768 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا گولہ بارود خریدنے کا منصوبہ تھا۔  گولہ بارود کی ترسیل میں تاخیر اور اس کے معیار سے متعلق سوالات نے معاملے کو تنازع میں تبدیل کر دیا۔
 

 وزیر دفاع نے استعفیٰ کیوں دیا؟

ہانو پیوکور 2022 سے ایسٹونیا کے وزیر دفاع کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے بدھ کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ ایسٹونیا کے نیشنل آڈٹ آفس کی جانب سے سامنے آنے والے اہم نتائج کے بعد اس خریداری کے معاہدے کی سیاسی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایسٹونیا کی قومی سلامتی کسی ایک شخص کی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے، اس لیے انہیں مناسب وقت پر وزارت دفاع کی ذمہ داری وزیراعظم کے حوالے کر دینی چاہیے۔
 

 تنازع کیسے شروع ہوا؟

یہ معاملہ 2024 میں شروع ہوا، جب ایسٹونیا کے سینٹر فار ڈیفنس انویسٹمنٹ نے اٹلی میں رجسٹرڈ کمپنی 'Datasel SRL' کے ساتھ کئی معاہدے کیے۔ اس کمپنی کو رواں سال بھارتی ملکیتی کمپنی 'Neco Defence Munitions' نے حاصل کیا تھا۔ ان معاہدوں کا مقصد یوکرین کے لیے توپ خانے کے گولے خریدنا تھا۔ اس وقت یوکرین کو جنگ کے باعث گولہ بارود کی شدید ضرورت تھی۔ ایسٹونیا نے ان خریداریوں کے لیے یورپی یونین سے حاصل ہونے والے فنڈز استعمال کیے اور کمپنی کو بڑی رقم پیشگی ادا کی۔
 

 کمپنی کو تقریباً 70 ملین یورو پیشگی دیے گئے

ایسٹونیا نے اگست 2024 میں Datasel کے ساتھ پہلا معاہدہ کیا، جس کے تحت تقریباً 15 ملین یورو پیشگی ادا کیے گئے۔ اکتوبر میں دوسرے معاہدے کے بعد مزید 10 ملین یورو سے زیادہ ادا کیے گئے۔ اس کے بعد مزید معاہدوں کے ذریعے سال کے آخر تک پیشگی ادائیگی کی مجموعی رقم تقریباً 70 ملین یورو تک پہنچ گئی۔ حکام کو توقع تھی کہ گولہ بارود چند ماہ میں یوکرین تک پہنچ جائے گا، لیکن پیداواری مسائل کے باعث ترسیل میں بار بار تاخیر ہوئی۔
 

 گولہ بارود کے معیار پر بھی سوالات اٹھے

2025 میں جب کچھ گولہ بارود موصول ہوا تو ایسٹونیا کی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ اس معاملے کے بعد ایسٹونیا نے کمپنی کے ساتھ کیے گئے معاہدے ختم کر دیے اور پیشگی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔
 

کمپنی نے الزامات مسترد کر دیے

Datasel نے وزیر دفاع اور میڈیا میں آنے والے بعض الزامات کو مسترد کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے معاہدوں کے تحت ایسٹونین ریاست کو تقریباً 59 ملین یورو مالیت کا اسلحہ فراہم کیا تھا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اسے ایسٹونیا کے سینٹر فار ڈیفنس انویسٹمنٹ سے 59 ملین یورو کی پیشگی رقم موصول ہوئی، جبکہ ایسٹونیا کی جانب سے مجموعی خریداری کی قیمت تقریباً 70 ملین یورو بتائی گئی ہے۔ Datasel کا کہنا ہے کہ اس نے گولہ بارود کی ترسیل میں تاخیر ضرور کی، لیکن اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ فراہم کیا گیا گولہ بارود معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ کمپنی نے کہا کہ اگر ایسٹونیا اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو وہ معاہدہ مکمل کرنے کے لیے تیار ہے۔
 

 معاملہ بین الاقوامی ثالثی تک پہنچ گیا

Datasel نے ایسٹونیا کے خلاف قانونی کاروائی شروع کر دی ہے اور یہ تنازع بین الاقوامی ثالثی میں پہنچ گیا ہے۔ ایسٹونیا نے معاملے کو فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں قائم یورپی ثالثی مرکز کے سامنے بھی اٹھایا ہے۔ ایسٹونیا کی کوشش ہے کہ گولہ بارود کے لیے ادا کیے گئے تقریباً 70 ملین یورو واپس حاصل کیے جائیں۔ اس پورے تنازع میں اب اہم سوال یہ ہے کہ پیشگی ادا کی گئی رقم کا کیا ہوا، کمپنی نے کتنی مقدار میں سامان فراہم کیا اور معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا۔