وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ آندھرا پردیش کے شہری بلدیاتی انتخابات کے لیے نامزدگیوں کے دوران تشدد اور رکاوٹوں کے سبب اس کے امیدوار کاغذات جمع نہ کر سکے، جس پر پارٹی نے سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ یہ درخواست آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کرتی ہے جس میں نامزدگی کی مدت میں توسیع سے انکار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی تعطیلاتی بنچ، جسٹس جویملیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل، اکیس اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت کرے گی؛ اسی دن امیدواروں کے کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ بھی ہے، جبکہ پولنگ اٹھائیس اکتوبر کو مقرر ہے۔
واضح رہےکہ وائی ایس آر کانگریس نے دس اکتوبر کو، پول نوٹیفکیشن سے قبل، ہائی کورٹ سے اضافی اور محفوظ نامزدگی مراکز قائم کرنے کی استدعا کی تھی جسے پندرہ اکتوبر کو واحد جج نے مسترد کردیا۔ بعد ازاں، پارٹی نے نامزدگی مراکز پر مبینہ تشدد اور ہراسانی کی نشاندہی کرتے ہوئے نامزدگی جمع کرانے کی مہلت میں توسیع مانگی، تاہم اٹھارہ اکتوبر کو جسٹس ننالا جےسوریہ اور جسٹس پورشوتّم کمار چنتلاپُڈی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ایک دن کی توسیع کی درخواست بھی یہ کہہ کر رد کردی کہ نامزدگی کی مدت ختم ہوچکی ہے اور اس میں مداخلت انتخابی عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہوگی۔ اسی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
درخواست کے مطابق سولہ اکتوبر، جو نامزدگی کا پہلا دن تھا، پُنگنور اور رایاچوٹی میں تشدد کے واقعات پیش آئے۔ کڑپہ میں ایک امیدوار کے کاغذات مبینہ طور پر چھین کر پھاڑ دیے گئے، جب کہ تروپتی میں امیدواروں پر حملے ہوئے اور انہیں مراکز تک پہنچنے سے روکا گیا۔ تروپتی کے نو امیدواروں نے حلف نامے داخل کر کے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نامزدگی داخل کرنے کی کوشش کے دوران باقاعدہ طور پر روکے گئے۔
وائی ایس آر کانگریس کا استدلال ہے کہ انتخابات میں عدم مداخلت کا اصول عدالتی احتیاط کی رہنما ہدایت ہے، کوئی مطلق ممانعت نہیں؛ اور جب جمہوری عمل کو سبوتاژ کیا جارہا ہو تو آئینی عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ شفافیت کو یقینی بنائیں اور کسی امیدوار کو زبردستی مقابلے سے باہر نہ ہونے دیں۔ مزید کہا گیا کہ نامزدگی کی مدت کے خاتمے کی نوبت خود مبینہ رکاوٹوں کے سبب آئی، لہٰذا اسی بنیاد پر ریلیف نہ دینا ناانصافی ہوگی۔
درخواست میں چار اہم مراعات مانگی گئی ہیں: نامزدگی کی مدت میں توسیع؛ اضافی نامزدگی مراکز کے قیام کے ساتھ جامع وڈیو نگرانی؛ امیدواروں کو پولیس تحفظ؛ اور بلا مقابلہ قرار دیے جانے والی نشستوں پر حکمِ امتناعی۔ یہ درخواست وکیل محفوٗظ اے نذکی کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔
ریاستی الیکشن اتھارٹی اور حکومت کی جانب سے اس خبر پر فوری ردعمل موصول نہیں ہوا۔ اب نگاہیں سپریم کورٹ کی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ مبینہ رکاوٹوں اور تشدد کے پیشِ نظر عدالت کب، کیسے اور کس حد تک انتخابی ٹائم لائن میں مداخلت کرسکتی ہے، تاکہ اٹھائیس اکتوبر کی رائے دہی سے قبل امیدواروں کے مساوی مواقع یقینی بنائے جاسکیں۔







