امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی کی غیر متوقع اور وسیع پیمانے پر شرمندگی کا باعث بننے والی کارکردگی نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے، اور اسی پس منظر میں استعفوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق ہندوستانی نژاد امریکی عہدیدار ہرمیت ڈھلون نے امریکی محکمہ انصاف کے شہری حقوق ڈویژن کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کی تصدیق اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانش نے 5 نومبر کو کی۔ بلانش نے سوشل میڈیا پر تحریر کیا کہ ہرمیت ڈھلون نے ڈویژن کی قیادت عزم اور حوصلے سے کی، شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے قانون کو بلا خوف و جانب داری نافذ کیا، اور محکمہ ان کی خدمات پر ممنون ہے۔
یہ استعفیٰ واشنگٹن میں ایسے وقت سامنے آیا جب انتخابی نتائج نے ریپبلکن قیادت کی توقعات کے برخلاف رجحان دکھایا، جس سے وائٹ ہاؤس اور انتظامیہ کے اندر سیاسی دباؤ بڑھا۔ ہرمیت ڈھلون، جو اپریل 2025 میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل مقرر ہوئی تھیں، تقریباً 18 ماہ اس منصب پر فائز رہیں اور وہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ چھوڑنے والی پہلی سینئر افسر قرار پائی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ انہوں نے نتائج اعلان سے پہلے ہی کر لیا تھا، اور بتایا کہ تقریباً 3 ہفتے قبل استعفیٰ دینے کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز نے ان سے کہا تھا کہ انتخابات تک ذمہ داریاں جاری رکھیں۔
ہرمیت ڈھلون کا تعلق چنڈی گڑھ کے ایک پنجابی سکھ خاندان سے ہے۔ ان کا خاندان پہلے لندن منتقل ہوا اور بعد ازاں امریکہ آ بسایا۔ وہ صدر ٹرمپ کی قریبی قانونی معاون سمجھی جاتی رہی ہیں۔ محکمہ انصاف میں تقرری سے پہلے وہ سان فرانسسکو میں اپنی قانونی فرم کا انتظام سنبھالتی تھیں اور قدامت پسند قانونی محاذ پر متحرک آواز کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ ان کی تقرری کے وقت بھی وہ نمایاں خبروں میں رہیں اور اب استعفیٰ کو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک قابلِ ذکر جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ شہری حقوق ڈویژن پالیسی ترجیحات کے اعتبار سے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔
ان کے دور میں شہری حقوق ڈویژن کے کام کرنے کے انداز میں واضح تبدیلیاں سامنے آئیں۔ ماضی میں یہ ڈویژن ووٹنگ رائٹس، امتیازی سلوک کے خلاف کاروائی اور پولیس اصلاحات جیسے معاملات پر سرگرم عمل تھا، تاہم ہرمیت ڈھلون نے ٹرمپ انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق ترجیحات کی نئی درجہ بندی کی۔ انہوں نے اس نظریاتی رجحان کی مخالفت کی جسے وہ ’ووگ نظریہ‘ قرار دیتی تھیں، اور ان کے مطابق بعض سرکاری و نجی اداروں کی غیر قانونی ڈی ای آئی پالیسیوں کے خلاف کاروائی پر زور دیا گیا۔ اسی کے ساتھ خواتین اور لڑکیوں کے کھیلوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات بھی ان کی توجہ میں رہے۔
ہرمیت ڈھلون نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر اپنے استعفیٰ کے متعلق کہا کہ شہری حقوق کے لیے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی حیثیت سے ملک کی خدمت ان کی زندگی کا بڑا اعزاز رہا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں یہ موقع ملا، اور کہا کہ وہ آئندہ مواقع کے بارے میں پرجوش ہیں۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانش نے ان کی قیادت کو قانون کی بالادستی کے عزم کے طور پر خراج تحسین پیش کیا اور ان کی آئندہ کاوشوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔






