قومی پرچم ہاتھوں میں لیے اور ’جئے ہند‘ کے نعرے لگاتے ہوئے، کاک روچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور مختلف طلبہ تنظیموں کے سیکڑوں حامیوں نے جمعہ کی شام وسطی دہلی میں اچانک احتجاجی مظاہروں کی ایک سلسلہ وار کوشش کی، جب دہلی پولیس نے کناٹ پلیس میں پارٹی کے مجوزہ ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ کی اجازت روک دی۔ پولیس کے مطابق امن و امان متاثر ہونے کے اندیشے کے تحت مارچ کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے بعد مظاہرین کبھی منتشر ہوتے اور پھر مختلف مقامات پر دوبارہ جمع ہو جاتے رہے۔ کچھ شرکا نے قومی ترانہ بھی پڑھا۔
پولیس نے مطابق تقریباً 150 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جن میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نہا بورا شامل ہیں۔ دپکے کو جھنڈےوالان میں واقع رہائش گاہ سے، جبکہ بورا کو منڈی ہاؤس کے قریب روکا گیا جب وہ احتجاج میں شامل ہونے جا رہی تھیں۔ پولیس نے کناٹ پلیس پہنچنے والے متعدد شرکا کو بھی حراست میں لیا۔ ایک افسر نے کہا کہ جو بھی قانون و نظم میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے گا اسے حراست میں لیا جائے گا۔
آئیسا کے طلبہ نے منڈی ہاؤس پر پرامن دھرنا دے کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کی واپسی، اور 2023 کے الیکشن کمشنر تقرری ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کچھ مقامات پر تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔ دن میں پہلے، دہلی پولیس کے 20 سے زائد اہلکار دپکے کے گھر گئے اور انہیں ایک نوٹس دیا کہ وہ شہریوں، تاجروں، مسافروں اور مریضوں کے حقوق کو متاثر کرنے والے کسی اقدام سے باز رہیں۔ اسی روز عام آدمی پارٹی نے بھی راشٹرپتی بھون کے قریب اور اپنی مرکزی عمارت کے باہر ترنگا مارچ کیا، جہاں کارکنان نے ’ہندوستان ماتا کی جئے‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعرے لگائے۔ مرکزی حکومت نے ان احتجاجات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لکھنؤ میں پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس اور اس کے حلیف نوجوانوں کی توانائی کو تعمیری کام کے بجائے سیاسی محاذ آرائی اور انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اور بنگلہ دیش کی طرز پر حکومت تبدیل کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول، جمہوریت کسی کو بدنظمی پھیلانے یا آئینی اداروں کو کمزور کرنے کا لائسنس نہیں دیتی۔
دوسری جانب کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہل گاندھی نے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے پر دہلی پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ہڈیاں توڑ سکتی ہے مگر ستیہ گرہ نہیں توڑ سکتی، اور یہ کہ خاص طور پر نوجوان خواتین بے خوف اور پرعزم ہو کر جمہوریت کے لیے کھڑی ہیں۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دپکے کی پیشگی حراست کو ’’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘‘ قرار دیا ۔







