اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران فارم-7 کے ذریعے بڑی تعداد میں نام حذف کرانے کی مبینہ کوشش کا سنگین معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ آج کی سماعت میں عرضی گزار نے یہ الزام رکھا کہ ایک مخصوص طبقہ کے ووٹروں کو نشانہ بنا کر اجتماعی طور پر فارم-7 داخل کیے گئے تاکہ ان کے نام انتخابی فہرست سے نکالے جا سکیں۔
عدالت عظمیٰ نے ابتدائی سماعت کے بعد اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے عرضی گزار سے کہا ہے کہ جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان سے متعلق ٹھوس اور قابلِ تصدیق دستاویزات مقررہ مدت میں عدالت میں جمع کرائی جائیں تاکہ ان کی بنیاد پر آئندہ کاروائی کا تعین ہو سکے۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن آف انڈیا سے کہا گیا ہے کہ موصولہ شکایات پر کاروائی کرے، زمینی سطح پر جانچ کی تازہ پیش رفت بتائے اور ایک جامع اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں داخل کرے۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ پہلے ہی نوٹس میں لیا جا چکا ہے، متعلقہ افسران نے موقع پر جا کر اجتماعی طور پر داخل کی گئی متعدد فارم-7 درخواستوں کی جانچ کی ہے اور ریکارڈ کی پڑتال بھی کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق کافی تعداد میں فارم-7 ایک ساتھ جمع ہوئے تھے جس پر بوتھ لیول افسران نے فیلڈ ویری فکیشن کی۔ دوسری جانب عرضی گزار کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے اپنے حلف نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ کئی اعتراضات پر کوئی کاروائی آگے نہیں بڑھی، اس لیے شفافیت کے لیے آزادانہ جانچ ناگزیر ہے۔
وکیل نے ایک سنگین پہلو کی نشان دہی کی کہ ایک ضلع میں ایک مخصوص طبقہ کے ووٹروں سے متعلق 32 فارم پر بوتھ لیول آفیسر کے دستخط ہونے کا الزام سامنے آیا ہے، جو ضابطہ کار اور جانبداری کے سوالات اٹھاتا ہے؛ ان کے مطابق اس کی مفصل تفتیش ضروری ہے تاکہ غلط بیانی یا ملی بھگت کی صورت ہو تو سامنے آئے۔ عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسی نوعیت کے معاملات پہلے کرناٹک اور کیرالہ میں رپورٹ ہوئے تھے۔
عرضی گزار کے مطابق کرناٹک میں چیف الیکٹورل آفیسر نے مبینہ بے ضابطگیوں پر ایف آئی آر درج کرانے کے لیے باضابطہ شکایت روانہ کی تھی، جب کہ اتر پردیش میں تاحال بامعنی کاروائی نظر نہیں آتی۔ اس تناظر میں چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت الزامات اور جواب دہی دونوں کو ریکارڈ پر دیکھے گی اور دستاویزی ثبوت موصول ہونے کے بعد مناسب احکامات دے گی۔
سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد معاملے کا محور دو دستاویزات پر مرکوز ہو گیا ہے: اول، عرضی گزار کی جانب سے مبینہ فرضی یا اجتماعی فارم-7 اعتراضات کے ثبوت، اور دوم، الیکشن کمیشن کی اسٹیٹس رپورٹ جس میں جانچ کے نتائج، کی گئی کاروائی، اور آئندہ کے لائحہ عمل کی تفصیل شامل ہو۔
واضح رہے کہ فارم-7 وہ مجاز دستاویز ہے جس کے ذریعے کسی ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے حذف کرنے کے لیے اعتراض یا درخواست دی جاتی ہے، اس لیے اس کے غلط استعمال کے خدشات براہِ راست ووٹنگ کے بنیادی حق اور منصفانہ انتخاب کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ماہرین انتخابی قانون کے مطابق فارم-7 کی اجتماعی پیش کش، ایک ہی علاقے میں غیر معمولی تعداد، یا مخصوص برادریوں پر یکسو توجہ جیسے پیٹرن ظاہر ہوں تو ضابطہ جاتی جانچ، مکانیتی تصدیق، اور آفیشل دستخطوں کی پڑتال انتہائی اہم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے ادارہ جاتی جواب دہی پر زور دیتے ہوئے شواہد اور پیش رفت رپورٹ طلب کی ہے تاکہ یہ طے ہو کہ کہاں خامی تھی، کیوں پیش آئی اور اسے کیسے دور کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں یقین دہانی کرائی ہے کہ بوتھ لیول اہلکاروں کی کاروائی، فیلڈ ویری فکیشن کے نوٹس، اور ڈیٹا کے کراس چیک سمیت تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب عرضی گزار اس امر پر مصر ہیں کہ جب تک مخصوص اضلاع میں مبینہ اجتماعی اعتراضات اور دستخطوں کی اصلیت کی آزادانہ چھان بین نہ ہو، متاثرہ ووٹروں کے حقوق متاثر رہنے کا اندیشہ ہے۔ اب نگاہیں اس پر ہیں کہ کب اور کیسے دونوں جانب سے مطلوبہ دستاویزات عدالت کے روبرو آتی ہیں اور اس کے بعد سپریم کورٹ آئینی اور انتظامی سطح پر کیا رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ منصف ٹی وی اس معاملے کی ہر پیش رفت آپ تک پہنچاتا رہے گا۔







