سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دیوالی اور دیگر تہواروں کے دوران صاف ہوا سے متعلق اقدامات محض عدالتی احکام یا پولیس کی تعیناتی سے مؤثر طور پر نافذ نہیں ہوسکتے، انہیں ایک ایسی عوامی تحریک میں ڈھلنا ہوگا جس میں شہری خود پیش پیش ہوں۔
جمعہ کے روز سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے دہلی حکومت اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ مقامی بلدیاتی کونسلروں کی فعال شمولیت یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو آنے والی دیوالی میں آلودگی پھیلانے والے پٹاخے نہ چلانے کی ترغیب دی جائے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے مشاہدہ کیا کہ ضرورت سے زیادہ عدالتی مداخلت الٹا عدم تعمیل میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس کئے کہ جتنے زیادہ احکامات عدالت جاری کرتی ہے، اتنی ہی زیادہ خلاف ورزیاں دیکھنے میں آتی ہیں، اس رجحان کو بدلنے کے لیے مقامی منتخب نمائندے لوگوں سے براہ راست اپیل کریں اور تہوار مناتے وقت آلودگی نہ بڑھانے کا عہد دلائیں، تبھی یہ ایک حقیقی عوامی تحریک بنے گی۔
یہ ریمارکس اس ازخود نوٹس نوعیت کے مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آئے جس کا عنوان قومی دارالحکومت خطے میں فضائی آلودگی پر قابو—ناظمانہ و پالیسی فریم ورک، فضائی معیار کی حکمرانی اور دیگر ضمنی امور ہے۔ بنچ دہلی این سی آر میں سردیوں سے قبل بگڑتی فضائی کیفیت کے پس منظر میں عملی حکمتِ عملی کا جائزہ لے رہی تھی۔
سماعت میں معاونِ عدالت نے نشان دہی کی کہ زمینی سطح پر پولیسنگ کی اپنی عملی حدود ہیں اور ریاست ہر گھر میں ایک پولیس افسر مقرر نہیں کر سکتی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سخت احکام کے باجود محض نفاذی دباؤ سے پائیدار تبدیلی ممکن نہیں، اس کے لیے بامقصد آگاہی، برادری کی شرکت اور مقامی قیادت کی ذمہ داری بنیادی عنصر ہے۔
سینیئر وکیل اپراجتا سنگھ، جو معاونِ عدالت کے طور پر معاونت کر رہیں تھیں، نے نفاذ کے کمزور پہلوؤں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق دکانداروں نے گرین کریکرز کی محدود اجازت کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کیوسکس پر سبز ڈبّے نمایاں کر رکھے ہیں جبکہ دکانوں کے اندر روایتی، ممنوعہ پٹاخے چپکے سے فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے قواعد کی روح متاثر ہوتی ہے اور فضا پر بوجھ بڑھتا ہے۔
انہوں نے صحتِ عامہ کے شدید خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے سنہ 2012 کی مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا جس کے مطابق دہلی کے اسکول جانے والے بچوں میں سے 43.5 فیصد کی پھیپھڑوں کی کارکردگی دارالحکومت سے باہر کے ہم عمر بچوں کے مقابلے میں کم پائی گئی۔ عدالت کے روبرو ایک وکیل نے مزید التجا کی کہ گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان میں سکولوں پر پابندیوں کو علیحدہ زمرے میں دیکھا جائے اور حفاظتی اقدامات کو آلودگی کے ابتدائی مراحل ہی میں متحرک کیا جائے تاکہ بچوں کی صحت کو فوری تحفظ مل سکے۔
حکومت ہند کی طرف سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریا بھاٹی نے عدالت سے اتفاق کیا کہ بیداری مہمات کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے این سی آر ریاستوں سے مرتب کردہ شعبہ وار تعمیل چارٹ پیش کیا جس میں تعمیراتی گرد و غبار، بلدیاتی فضلہ جلانے کے واقعات، گاڑیوں کے دھوئیں اور صنعتی سرگرمیوں سے وابستہ اقدامات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
معاونِ عدالت کی جانب سے یہ نقطہ بھی رکھا گیا کہ ریاستیں اکثر اسی وقت تیزی دکھاتی ہیں جب عدالتِ عظمیٰ براہِ راست تعمیل رپورٹ طلب کرتی ہے یا اعلیٰ افسران کو بلاتی ہے۔







