جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکالر اور سماجی کارکن شرجیل امام نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت سے انکار کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔ یہ معاملہ فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ “بڑی سازش” سے متعلق یو اے پی اے کیس کا ہے، جس میں استغاثہ نے انہیں شریکِ سازش قرار دیا ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں ضمانت دی جائے کیونکہ استغاثہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرانے میں ناکام رہا ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے عائد ایک سالہ پابندی کی مدت اب اختتام کے قریب ہے۔ ان کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ طویل حراست بنیادی حقوق، خصوصاً آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت تیز رفتار ٹرائل کے حق، سے متصادم ہے۔---
اس تناظر میں شہری حلقوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے عمر خالد اور شرجیل امام کی آزادی کے حق کے تحفظ کی اپیل بھی کی ہے اور سپریم کورٹ کے 2021 کے فیصلے کے اے نجيب کا حوالہ دیا ہے، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ غیر معقول طوالت والی قید ملزم کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی بن سکتی ہے۔
شرجیل امام کی درخواست کے مطابق چارج شیٹ 25 ستمبر 2020 کو داخل ہوئی، جس میں 18 ملزمان کے خلاف کاروائی زیرِ سماعت ہے اور استغاثہ نے 900 سے زائد گواہوں کی فہرست دی ہے جن میں 47 محفوظ گواہ شامل ہیں، تاہم اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی ایک گواہ بھی عدالت میں پیش ہوکر جرح سے نہیں گزرا۔ امام نے بتایا کہ وہ بحیثیت زیرِ سماعت قیدی مجموعی طور پر تقریباً 6 سال 9 ماہ قید کاٹ چکے ہیں، لیکن مقدمے کی پیش رفت نہایت سست ہے، اس لیے ضمانت ناگزیر ہے تاکہ آئینی تقاضے پورے ہوں۔
یہ اپیل اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ 30 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام دونوں کی ضمانت مسترد کردی تھی۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ وہ عدالتی نظم کی پابند ہے اور سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم میں ترمیم نہیں کرسکتی، جس کے مطابق دونوں ملزمان یا تو محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے پر یا ایک سال کی مدت پوری ہونے پر—جو بھی پہلے واقع ہو—نئی ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 4 جولائی کو تیسری مرتبہ ان کی ضمانت کی عرضیاں یہ کہتے ہوئے رد کردی تھیں کہ اسے بھی اعلیٰ عدالت کے حکم کی پابندی کرنی ہے، لہٰذا وہ فی الوقت کوئی ریلیف نہیں دے سکتی۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ شرجیل امام اور عمر خالد یو اے پی اے کے تحت درج اس مقدمے میں مبینہ طور پر اس سازش کے فکری محرک تھے جس کے نتیجے میں فروری 2020 کے فسادات پھوٹ پڑے، جن میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ تشدد شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 اور قومی شہری رجسٹر کے خلاف احتجاجی ماحول کے دوران ہوا۔ اس بڑے مقدمے میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل تحقیق کر رہی ہے اور اس میں کارکن خالد سیفی اور سابق (عام آدمی پارٹی)اے اے پی کونسلر طاہر حسین سمیت کئی دیگر ملزمان بھی نامزد ہیں۔ شرجیل امام کو 25 اگست 2020 کو اور عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
- News
- »
- قومی
- »
- شرجیل امام 2020 دہلی فساد کے مبینہ بڑی سازش والے یو اے پی اے مقدمے میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع
شرجیل امام 2020 دہلی فساد کے مبینہ بڑی سازش والے یو اے پی اے مقدمے میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع
Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: editor | Last Updated: 05 Nov 2026







