بالی وڈ سپر اسٹار سلمان خان منگل کے روز ممبئی کے کَلینا ہوائی اڈے پر سخت سکیورٹی میں دیکھے گئے۔ جُوہو میں اداکار ٹائیگر شروف کی کار پر فائرنگ کے حالیہ واقعے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں اضافہ دیکھا گیا ۔ سلمان خان اپنی کانوائے کے ساتھ پہنچے اور پولیس و نجی سکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں ٹرمینل کی جانب گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ وہ سادہ لباس میں گاڑی سے اترے، مختصراً فوٹوگرافروں اور مداحوں کی جانب ہاتھ ہلایا اور فوراً ایئرپورٹ میں داخل ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ اتوار کی شام تقریباً سات بجے اس وقت ہوئی جب وہ جُوہو کے ایک فٹبال کلب سے روانہ ہو رہے تھے۔ ملزمان نے چلتی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ ٹائیگر شروف براہ راست گولی لگنے سے محفوظ رہے تاہم ان کے ڈرائیور کو زخم آئے۔ واقعے کے بعد بندرا کے گلیکسی اپارٹمنٹس میں واقع سلمان خان کی رہائش گاہ کے باہر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی، جہاں بلٹ پروف جیکٹ پہنے پولیس اہلکار اور پولیس گاڑیاں تعینات نظر آئیں۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس موہت گرگ نے تصدیق کی کہ فائرنگ ٹائیگر شروف کے کلب کے احاطہ سے نکلتے ہی کی گئی۔ ممبئی پولیس نے معاملے کی تفتیش میں اہم پیش رفت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے سلسلے میں تین مشتبہ افراد کو راجستھان کے کوٹا سے گرفتار کیا گیا ۔ مقامی عدالت نے ملزمان کا اڑتالیس گھنٹے کا ٹرانزٹ ریمانڈ منظور کر کے مہاراشٹر پولیس کو ان کی تحویل میں لے کر ممبئی منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔ توقع ہے کہ ممبئی میں ملزمان سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی تاکہ واقعے کے محرکات، منصوبہ بندی اور ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
پولیس نے حساس مقامات، خاص طور پر فلمی شخصیات کی رہائش گاہوں اور عوامی نقل و حرکت والے مراکز پر نفری میں اضافہ کیا، داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی اور ویڈیو سرویلنس کو اپ گریڈ کیا گیا، جبکہ وی آئی پی موومنٹ کے دوران کانوائے پروٹوکول سخت کر دیے گئے۔
مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے اتوار کی رات ٹائیگر شروف کے گھر پہنچے۔ انہوں مطابق اداکار کے بائیں ہاتھ پر بارود اور شیشے کے ذرات سے چوٹیں آئیں اور خاندان صدمے میں ہے۔ شندے نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت سخت کارروائی کرے گی اور سرکردہ شخصیات کو دی جانے والی دھمکیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا، کس پر ہوا، کیوں زیرِ تفتیش ہے اور کیسے نمٹا جا رہا ہے—ان سب کے جوابات پر مبنی تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور مستند معلومات کے لیے سرکاری بیانات پر انحصار کریں۔







