مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ممبئی سے جمعہ کے روز جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں ہونے کے باوجود ’جمہوریت بچاؤ‘ کے نام پر سڑکوں پر مارچ نکال رہی ہے، جو ان کے نزدیک ایک عجیب اور ناقابلِ فہم صورتِ حال ہے۔
راج ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ ملک میں اپوزیشن جماعتیں، جن میں کانگریس اور انڈیا بلاک شامل ہیں، الیکشن کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتخابی عمل میں شفافیت کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہی ہیں۔ اس کے جواب میں بی جے پی کا بھی سڑکوں پر نکلنا جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق شاید دنیا میں یہ اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے کہ حکمراں جماعت اپوزیشن کے خلاف ریلیاں نکال رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرزِ عمل سے انتخابات میں شکست کے خوف کا اظہار ہوتا ہے۔
گوکل معاملے پر بھی اٹھائے سوال
راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر کے گوکل معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی پینل کے 12 اور ستیج پاٹل پینل کے 13 امیدوار بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخاب جیت چکے تھے تو اس کے بعد حکومت کی جانب سے 5 ڈائریکٹر نامزد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
انہوں نے سوال کیا کہ نامزد کیے گئے ڈائریکٹرز کو ووٹ کا حق دے کر آخر کیا ثابت کرنا چاہا جا رہا ہے؟ راج ٹھاکرے کے مطابق، انتخاب جیتنے والے نمائندے عوام کے فیصلے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ جب گوکل میں بی جے پی کی مرضی کے مطابق نتیجہ سامنے نہیں آیا تو جمہوری اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔
مہاراشٹر میں پانی کا قحط، بی جے پی میں سمجھ داری کی کمی
ایم این ایس سربراہ نے ریاست میں پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی پر طنز بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر اس وقت پانی کے شدید قحط کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ بی جے پی میں سمجھ داری کا قحط نظر آ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف حکمراں جماعت جمہوریت بچانے کے نام پر مارچ نکال رہی ہے اور دوسری طرف اس کے اقدامات پر جمہوری طریقۂ کار کو کمزور کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ راج ٹھاکرے نے ملک کی معیشت پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو مستقبل میں حکمراں جماعت کو ’معیشت بچاؤ‘ کے نام پر بھی سڑکوں پر اترنا پڑ سکتا ہے۔
شکست کے خوف سے ہتھکنڈے نہ اپنائے جائیں
راج ٹھاکرے نے بی جے پی کو مشورہ دیا کہ وہ شکست کے خوف سے سیاسی ہتھکنڈے اپنانا بند کرے۔ ان کے مطابق، جس اکثریت کو کسی بھی طریقے سے حاصل کیا گیا، اسے اپوزیشن نے 12 سال تک برداشت کیا ہے۔ اب اگر عوام کا رجحان اپوزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے تو حکمراں جماعت کو جمہوری رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق اپوزیشن کے الزامات بدستور برقرار ہیں۔ تاہم، راج ٹھاکرے کے اس بیان پر بی جے پی کا کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔







