Friday, November 06, 2026 | 24 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • پٹرول و ڈیزل مہنگے ہونے کے امکان، آکسفورڈ اکنامکس کی وارننگ؛ شرحِ سود میں اضافے کے خدشات

پٹرول و ڈیزل مہنگے ہونے کے امکان، آکسفورڈ اکنامکس کی وارننگ؛ شرحِ سود میں اضافے کے خدشات

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: editor | Last Updated: 16 Oct 2026

پٹرول و ڈیزل مہنگے ہونے کے امکان، آکسفورڈ اکنامکس کی وارننگ؛ شرحِ سود میں اضافے کے خدشات
ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بارے میں تشویشناک اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کے قیمت بڑھنے اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے پس منظر میں آکسفورڈ اکنامکس نے پیشن گوئی، پیش قیاسی کی ہے کہ نومبر میں ہندوستان میں ایندھن کی قیمتیں معمولی سہی مگر بڑھ سکتی ہیں۔ اس اضافے کا براہِ راست اثر نقل و حمل کے اخراجات اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنے کا اندیشہ ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
 
آکسفورڈ اکنامکس کی چیف اکانومسٹ الیگزینڈرا ہرمن کے متعلق بلومبرگ کی رپورٹ کہتی ہے کہ آئندہ برس کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، اس لیے ایندھن قیمتوں کا فیصلہ سیاسی طور پر بھی حساس ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق اتر پردیش اور پنجاب سمیت متعدد ریاستوں میں مارچ سے مئی کے درمیان پولنگ کا امکان ہے، لہٰذا قیمتوں میں کسی بھی ردوبدل کے وسیع سماجی و معاشی مضمرات ہو سکتے ہیں۔
 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نومبر میں ایندھن مہنگا ہوا تو ہندوستان میں مہنگائی پر بڑھ سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ اکتوبر تا دسمبر 2026 کی سہ ماہی میں مہنگائی 6.2 فیصد اور جنوری تا مارچ 2027 میں 6.5 فیصد تک جا سکتی ہے، جو ریزرو بینک آف انڈیا کے ٹارگٹ 2 سے 6 فیصد سےزائد ہے۔ آر بی آئی کی اپنی تازہ پیش قیاسی قدرے کم ہے: اکتوبر تا دسمبر 2026 کے لیے 6 فیصد اور جنوری تا مارچ 2027 کے لیے 5.7 فیصد۔ آکسفورڈ اکنامکس کے مطابق رواں مالی سال کے لیے عمومی مہنگائی 5.4 فیصد رہ سکتی ہے، جب کہ آر بی آئی 5.2 فیصد کا اندازہ ہے۔
 
ماہرین کا کے مطابق، مئی میں کیے گئے ایندھن اضافے کے مقابلے میں ممکنہ نیا اضافہ نصف کے لگ بھگ ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر قیمتوں کا دباؤ برقرار رہا تو آر بی آئی دسمبر اور فروری کی مالیاتی پالیسی جائزہ میٹنگز میں ریپو ریٹ 25 سے 50 بیسس پوائنٹس تک بڑھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
 
رپوٹ کے مطابق کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ روکنے کے لیے آر بی آئی کی حالیہ مداخلتیں کچھ سہارا دے سکتی ہیں، مگر عالمی سطح پر خام تیل کے بلند قیمت اور غیر ملکی سرمایہ کے دباؤ سے روپیہ کمزور ہو سکتا ہے۔ صرف آر بی آئی کی مداخلت طویل مدتی استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
 
بالآخر، ایندھن قیمتوں اور ریپو ریٹ سے متعلق حتمی فیصلے سرکاری اعلانات پر منحصر ہوں گے۔ اگر نومبر میں ایندھن مہنگا ہوا تو اس کے اثرات فوری طور پر ٹرانسپورٹ لاگت، ضروری اشیا کی قیمتوں اور قرضوں کی سودی شرحوں پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔