Friday, November 06, 2026 | 24 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • امریکہ میں عبدال ال سید کی تاریخی کامیابی پر اویسی کی خوشی، یوپی کے "عبدال" کو سیاسی شناخت مضبوط کرنے کی اپیل

امریکہ میں عبدال ال سید کی تاریخی کامیابی پر اویسی کی خوشی، یوپی کے "عبدال" کو سیاسی شناخت مضبوط کرنے کی اپیل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: editor | Last Updated: 04 Nov 2026

امریکہ میں عبدال ال سید کی تاریخی کامیابی پر اویسی کی خوشی، یوپی کے "عبدال" کو سیاسی شناخت مضبوط کرنے کی اپیل

اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے بدھ 4 نومبر کو امریکہ کی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ رہنما عبدال ال سید کی امریکی سینیٹ میں تاریخی کامیابی پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے اسے مسلم سیاسی نمائندگی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اب اتر پردیش کے "عبدال" کو بھی اپنی سیاسی شناخت مضبوط کرنی ہوگی۔ اویسی نے یہ بات ایک پوسٹ میں کہی جو انہوں نے ایکس پر شیئر کی، اور اسی بہانے سماجوادی پارٹی اور کانگریس پر اپنے دیرینہ تنقید آمیز مؤقف کو تازہ کیا کہ دونوں جماعتیں مسلم ووٹوں پر تو انحصار کرتی ہیں مگر قیادت کے مواقع نہیں دیتیں۔

واقعہ مشی گن میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کا ہے جہاں 42 سالہ عبدال ال سید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی، جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ تھے۔ روئیٹرز کے مطابق یہ نشست سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ڈیموکریٹس کے پاس برقرار رہی، جبکہ ال سید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی مسلم شناخت، فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کی مخالفت نے بحث چھیڑ رکھی تھی، جسے ریپبلکن امیدواروں اور کچھ حلقوں نے ان کے سیاسی و مذہبی جھکاؤ پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا۔

اے آئی پی اے سی نے پرائمری مرحلے میں ان کے خلاف تقریباً 30 ملین ڈالر خرچ کیے، لیکن عبدال ال سید نے اگست کی ڈیموکریٹک پرائمری میں ہیلی اسٹیونز کو شکست دے کر نامزدگی حاصل کرلی۔ اس کے بعد ریپبلکن کی جانب سے حملے تیز ہوئے۔ 25 اکتوبر کو مشی گن میں ایک ریلی کے دوران سابق صدر ٹرمپ نے انہیں "جہادی" کہہ کر نشانہ بنایا اور مضحکہ خیز انداز میں یہ تک کہا کہ سینیٹ میں داخلے سے پہلے انہیں میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا ہوگا۔. مائیک راجرز نے ان پر اخوان المسلمین سے روابط کا الزام لگایا مگر کوئی ثبوت پیش نہ کیا۔ عبدال ال سید نے الزامات کی تردید کی اور اسی روز گرینڈ ریپس کی ریلی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ نومبر کے بعد انہیں انہیں "سینیٹر" کہہ کر مخاطب کرنا ہوگا۔

ریاست مشی گن نے صدارتی انتخاب 2024 میں ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا تھا، اس پس منظر میں عبدال ال سید کی جیت ڈیموکریٹس کی وسیع تر پیش رفت کا حصہ بنی اور ریپبلکن پارٹی کو جھٹکا لگا۔ اسی کامیابی کو بنیاد بنا کر اویسی نے اتر پردیش کے مسلم ووٹرز اور کارکنان کو پیغام دیا کہ اب وہ صرف جلسوں میں قالین بچھانے والے نہ رہیں بلکہ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں نشستیں جیت کر قیادت سنبھالیں۔

اویسی نے لکھا کہ سنگھیوں نے "عبدال" کو طعنہ بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، اب وقت ہے کہ دکھا دیا جائے کہ عبدال کسی کے تابع نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم نوجوان، مرد و خواتین اپنی صفوں سے قیادت ابھاریں۔ اکتوبر میں اتر پردیش کے مختلف جلسوں میں اویسی اسی استعارے کو دہرا چکے ہیں۔ 18 اکتوبر کو ضلع رام پور کے ٹانڈہ میں انہوں نے کہا تھا کہ عبدال لیڈر بنے گا، ایم ایل اے اور ایم پی بنے گا، اور مزید کہا کہ ہم اب کسی نہرو، گاندھی یا کسی یادَو کو اپنا قائد نہیں بنائیں گے بلکہ اپنی صفوں کے نوجوان آگے آئیں گے۔ 25 اکتوبر کو کیرانہ کی ریلی میں انہوں نے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادَو پر تنقید کرتے ہوئے پارٹی کے نام پر بھی طنز کیا۔