آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے ریاست بھر میں 75,000 سے زائد افراد کو پابندِ ضمانت کیا ہے اور وسیع سکیورٹی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ یہ اقدامات اس پس منظر میں کیے جارہے ہیں کہ ماضی میں پولنگ کے دوران تشدد اور دھاندلی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق کاروائیاں جاری ہیں اور حساس و نہایت حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس بی. راجہ کماری نے ہفتہ 24 اکتوبر 2026 کو میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انتخابات سے متعلق مقدمات میں ملوث عناصر، باقاعدہ بدنام زمانہ اوباش، مشتبہ شیٹ رکھنے والے افراد اور معروف متشدد عناصر کو قانون کے تحت پابندِ ضمانت کیا گیا ہے تاکہ وہ انتخابی عمل میں رخنہ نہ ڈال سکیں۔ ان کے مطابق جہاں ضرورت ہو وہاں نان بیلیبل وارنٹس کے نفاذ کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور نامزدگی مراکز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا عمل تیز کیا گیا ہے۔
پولیس کا کے مطابق، ماضی میں پولنگ سے متعلق تشدد میں ملوث افراد کی نقل و حرکت اور ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ اشتعال انگیزی، ووٹروں پر دباؤ یا افواہوں کے پھیلاؤ کو بروقت روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی فوری نشاندہی اور کاروائی کی مجاز ہیں۔
سکیورٹی پلان کے تحت تقریباً 70,000 پولیس اہلکار، جن میں آندھرا پردیش اسپیشل پولیس اور اسٹرائیک فورسز شامل ہیں، الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کیے جائیں گے۔ حساس اور نہایت حساس مراکز پر اضافی فورس، فلیگ مارچ اور مشترکہ گشت کے شیڈول بنائے گئے ہیں تاکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ، انتخابی مہم اور پولنگ کے دن کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال کو روکا جا سکے۔
ریاست بھر میں انتخابی نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد سے اب تک تقریباً 190 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان مقدمات میں نامزدگی فارم پھاڑنے یا چھیننے، امیدواروں، پولنگ عملے اور پولیس پر حملوں، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور انتخابی دفاتر کے باہر ہنگامہ آرائی جیسے واقعات شامل ہیں۔ کچھ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
گنٹور ضلع کے تاڈی پلّی میں اسٹیٹک سروی لینس ٹیموں اور پولیس اہلکاروں نے 24 اکتوبر کو گاڑیوں کی کڑی چیکنگ کی، جس کا مقصد نقد رقم، شراب اور ایسی دیگر اشیاء کی نقل و حمل کو روکنا تھا جو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ یہ چیک پوسٹس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر فوری کاروائی کے لیے ہیلپ ڈیسک اور وِڈیو ریکارڈنگ سے مزین ہیں۔
دوسری جانب سیاسی محاذ پر، کچھ جماعتوں نے نامزدگیوں میں رکاوٹ، جعلی دستبرداری کے خطوط اور امیدواروں پر حملوں کے الزامات بھی اٹھائے ہیں، جن پر ریاستی الیکشن کمیشن متعلقہ کلکٹروں، ڈسٹرکٹ الیکشن اتھارٹیز اور پولیس سے رپورٹیں لے کر اقدامات کر رہا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع متعلقہ کنٹرول رومز کو دیں اور افواہوں پر یقین نہ کریں، تاکہ بلدیاتی انتخابات پُرامن اور منصفانہ ماحول میں منعقد ہو سکیں۔







