Friday, November 06, 2026 | 24 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • نہ جم، نہ ہائی انٹینسٹی ورزش: صرف چہل قدمی—صحت و تندرستی کا نیا عالمی رجحان

نہ جم، نہ ہائی انٹینسٹی ورزش: صرف چہل قدمی—صحت و تندرستی کا نیا عالمی رجحان

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: editor | Last Updated: 08 Sept 2026

نہ جم، نہ ہائی انٹینسٹی ورزش: صرف چہل قدمی—صحت و تندرستی کا نیا عالمی رجحان
دنیا بھر میں صحت و تندرستی کے رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں، اور اب ایک سادہ مگر موثر عادت دوبارہ مرکزِ نگاہ بنی ہے: چہل قدمی۔ ماہرینِ صحت کے مطابق روزانہ تیز قدمی سے چلنا دل کی صحت بہتر بنانے، وزن پر قابو رکھنے، ذہنی تناؤ کم کرنے اور نیند کو بہتر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر “سینٹنس واکس”، “ہاٹ گرل واک” اور روزانہ 10 ہزار قدم جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے یہ تحریک نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد میں مقبول ہو رہی ہے۔
 
طبی تحقیق بتاتی ہے کہ ہفتہ بھر میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی—جس میں تیز قدمی شامل ہے—دل کے امراض، ذیابیطس ٹائپ ٹو اور فالج کے خطرات کو نمایاں حد تک گھٹا سکتی ہے۔ حالیہ مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ روزانہ 6,000 سے 8,000 قدم بھی قابلِ ذکر فوائد دے سکتے ہیں، اور قدموں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ فائدہ تدریجاً بڑھتا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق وہ افراد جو ہائی انٹینسٹی ورزش یا جم روٹین برقرار نہیں رکھ پاتے، ان کے لیے چہل قدمی ایک محفوظ، کم لاگت اور پائیدار متبادل ہے۔
 
کاریالیف اسٹائل کے پھیلاؤ، گھر سے کام اور اسکرین ٹائم میں اضافے نے غیر فعالیت کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ایسے میں شہری علاقوں میں پارکس، واکنگ ٹریکس اور پیڈومیٹر یا اسمارٹ واچ جیسی ٹیکنالوجی نے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ دن میں وقفہ وقفہ سے اٹھ کر قدم بڑھائیں۔ ماہرین ذہنی صحت کا کہنا ہے کہ ہلکی دھوپ میں، درختوں کے سائے تلے یا یہاں تک کہ دفتر کے آس پاس مختصر چکر لگانا بھی موڈ بہتر کرتا اور ارتکاز میں مدد دیتا ہے۔
 
فٹنس کوچز اور فزیوتھراپسٹس مشورہ دیتے ہیں کہ چہل قدمی کے فوائد بڑھانے کے لیے رفتار معتدل سے تیز رکھی جائے، قدموں کی رفتار یکساں ہو، اور مناسب آرام دہ جوتے استعمال کیے جائیں۔ شروع کرنے والوں کے لیے 20 تا 30 منٹ روزانہ کافی ہیں، جب کہ بتدریج 45 سے 60 منٹ تک پہنچنا ہدف ہو سکتا ہے۔ چڑھائی والے راستے، سیڑھیاں یا انٹرویل واک—جس میں چند منٹ تیز اور چند منٹ عام رفتار سے چلا جائے—دل کی دھڑکن کو محفوظ دائرے میں بڑھاتے ہوئے برداشت کو بہتر بناتی ہے۔
 
سوشل رجحانات نے بھی اس تحریک کو مہمیز دی ہے۔ کئی شہروں میں کمیونٹی واکس، “اسٹیپس چیلنجز” اور آفس ویلنَس پروگرامز کے ذریعے ٹیموں اور خاندانوں میں صحت مند مسابقت پیدا ہو رہی ہے۔ غذائی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ چہل قدمی کو متوازن غذا، مناسب ہائیڈریشن اور نیند کے شیڈول کے ساتھ جوڑنا نتائج کو دوچند کرتا ہے۔ بعض ماہرین گھڑی پر اعداد و شمار کے بجائے عادت کی تسلسل پر زور دیتے ہیں تاکہ دباؤ کے بجائے لذت کے ساتھ یہ طرزِ زندگی برقرار رہے۔
 
اگرچہ ہائی انٹینسٹی ورزشیں کیلوری جلانے اور پٹھوں کی مضبوطی میں موثر ہیں، تاہم ہر شخص کے لیے روزانہ جم جانا ممکن نہیں۔ چہل قدمی کی نمایاں خوبی یہی ہے کہ یہ ہر جگہ، ہر موسم اور ہر عمر میں قابلِ عمل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے پاس وقت کم ہے تو بھی دن میں 10 سے 15 منٹ کے دو یا تین مختصر چکر مجموعی طور پر بڑا فرق ڈال سکتے ہیں۔ صحت کے ذمہ دار ادارے شہریوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ روٹین—جیسے بس اسٹاپ پہلے اتر جانا، لفٹ کے بجائے سیڑھیاں لینا، یا کھانے کے بعد تھوڑی چہل قدمی—میں چھوٹی تبدیلیاں شامل کریں تاکہ بڑے نتائج حاصل ہوں۔