دیوالی کی آمد کے ساتھ ہی کشمیر میں روایتی مٹی کے دیوں کی تیاری زور پکڑ گئی ہے، اور مقامی کمھار بستیوں کے چاک دوبارہ پوری رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ یہ سرگرمی ہر سال تہوار سے پہلے دیکھنے میں آتی ہے جب کشمیری دستکار بڑے اور چھوٹے سائز کے دیے، سجاوٹی پیالیاں اور خوشنما چراغ طلب کے مطابق بناتے ہیں تاکہ وقت پر بازاروں، مندروں اور گھروں تک سپلائی پہنچ سکے۔ مقامی ہول سیل اور پرچون تاجروں نے اس ہفتے کے اوائل سے بڑی تعداد میں آرڈرز دے دیے ہیں، جب کہ شہری علاقوں کے علاوہ جنوبی اور شمالی کشمیر کے قصبات میں بھی مانگ بڑھنے لگی ہے۔
دستکاروں نے بتایا کہ تیاری کا سلسلہ عام طور پر دیوالی سے تقریباً 3 سے 4 ہفتے پہلے شروع کر دیا جاتا ہے تاکہ کھرے، سوکھنے اور جلانے کے تمام مرحلے مکمل ہو سکیں۔ مٹی کو چھان کر گوندھا جاتا ہے، پھر چاک پر شکل دی جاتی ہے، اس کے بعد دھوپ اور ہلکی بھٹی میں سکھایا جاتا ہے، اور آخر میں رنگ و روغن یا ہلکی گلَوَز کی تہہ لگائی جاتی ہے تاکہ دیا تیل اور گھی کو بہتر سنبھال سکے۔ کچھ کاریگر خصوصی ڈیزائن بھی بناتے ہیں جن پر کشمیری نقش و نگار کی جھلک نظر آتی ہے۔
تہوار کے موقع پر مانگ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بہت سے گھرانے ماحول دوست متبادل اختیار کرنا چاہتے ہیں اور بجلی یا پلاسٹک کی روشنی کے بجائے مٹی کے روایتی دیے جلانا پسند کرتے ہیں۔ کمھار برادری کے مطابق اس سال کے آغاز میں خام مٹی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مگر انہوں نے قیمتیں محدود سطح پر رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ خریداروں کی قوتِ خرید متاثر نہ ہو۔ بعض یونین نمائندوں نے امید ظاہر کی کہ اگر موسم خشک رہا اور سپلائی چین ہموار رہی تو فروخت پچھلے سال کے مقابلے میں بہتر رہے گی۔
کاروباری مراکز کے علاوہ سیاحتی علاقوں کی دکانوں میں بھی دیوالی سے جڑی سجاوٹ سامنے آنے لگی ہے، اور دکاندار خاندانوں کے ساتھ ساتھ مندروں کی انتظامیہ، نجی اداروں اور این جی اوز کے اجتماعی آرڈرز بھی وصول کر رہے ہیں۔ کچھ شہری تنظیمیں مقامی کمھاروں سے براہِ راست خریداری کی مہم چلا رہی ہیں تاکہ دیہی دستکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور روایتی ہنر نئی نسل تک منتقل رہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں ثقافتی سرگرمیوں کے لیے مٹی کے دیوں کی ورکشاپس بھی رکھی جا رہی ہیں تاکہ نوجوان عملی طور پر یہ ہنر دیکھ سکیں۔
محکمۂ دستکاری اور سیاحت کے اہلکاروں نے دکانداروں کو آگ سے بچاؤ کے طریقۂ کار پر عمل کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ کھلے شعلے کے قریب ذخیرہ نہ رکھا جائے۔ صارفین کو باور کرایا جا رہا ہے کہ دیے جلاتے وقت ہوادار جگہ کا انتخاب کریں، چراغ دان مستحکم رکھیں اور بچوں سے دور رکھیں۔ مقامی کاریگروں کا کے مطابق، اگرچہ مشینی مصنوعات کی یلغار ہے، مگر تہوار کی روح زندہ رکھنے میں مٹی کے دیے اب بھی خاص مقام رکھتے ہیں، اور دیوالی کی رات جب یہ ننھے چراغ جلتے ہیں تو کشمیر کی وادی روشنی سے نہا اٹھتی ہے۔






