Friday, November 06, 2026 | 24 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں کشیدگی۔ کلاسیں آن لائن، طلبہ کی حفاظت کو بنیاد بنا کر فیصلہ

جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں کشیدگی۔ کلاسیں آن لائن، طلبہ کی حفاظت کو بنیاد بنا کر فیصلہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: editor | Last Updated: 24 Oct 2026

 جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں کشیدگی۔ کلاسیں آن لائن، طلبہ کی حفاظت کو بنیاد بنا کر فیصلہ
نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ نے جاری طلبہ احتجاج کے پس منظر میں یونیورسٹی کی تمام کلاسیں فوری طور پر آن لائن کر دی ہیں، اور انتظامیہ نے اس فیصلے کی وجہ طلبہ کی حفاظت اور سکیورٹی کو قرار دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب کیمپس میں طلبہ تقریباً 2 ہفتوں سے طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر احتجاج کر رہے ہیں، جس یونین کو 2006 میں تحلیل کر دیا گیا تھا۔ ہفتہ کے روز جاری سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ “جامعہ کے باضابطہ طلبہ” کی سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ فی الفور نافذ العمل ہے اور اگلے حکم تک کلاسیں آن لائن جاری رہیں گی۔ یہ نوٹس رجسٹرار محسن مہتاب عالم رضوی کے دستخط کے ساتھ 24 اکتوبر کی تاریخ کا ہے۔
 
انتظامیہ نے اس کے ساتھ اساتذہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ آن لائن نظامِ تدریس میں منتقلی کے لیے درکار تعلیمی مدد، مواد اور سہولتیں فراہم کریں تاکہ تعلیمی نقصان کم سے کم ہو۔ دوسری جانب احتجاج کرنے والے طلبہ کا کے مطابق، آن لائن منتقلی کا فیصلہ ان کی نقل و حرکت محدود کرنے اور احتجاج میں مزید طلبہ کی شمولیت روکنے کی کوشش ہے، جب کہ انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی بات بھی جاری بتائی جا رہی ہے۔
 
ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز سامنے آئیں جن میں گلستانِ غالب باغیچے، گیٹ نمبر 7 کے نزدیک، طلبہ کے قائم کردہ احتجاجی ڈیرے کو ہٹاتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیوز میں طلبہ کو منتشر ہونے کے لیے کہا جاتا ہوا بھی سنا گیا، تاہم آزاد ذرائع سے ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ طلبہ کا الزام ہے کہ انتظامیہ کے کہنے پر سکیورٹی اسٹاف نے بھوک ہڑتال کرنے والوں کے ٹینٹ اکھاڑ دیے اور انہیں اکنامکس فیکلٹی کی عمارت کے اندر منتقل کیا گیا، جب کہ ایمبولینس بلا کر حراست کی کوشش کی گئی، جسے ساتھی طلبہ نے ناکام بنایا۔ 22 سالہ ایبن بیسل، جو 12 اکتوبر سے بھوک ہڑتال پر ہیں، کے مطابق صبح متعدد اساتذہ اور رجسٹرار نے آ کر بات چیت کی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا اور انہوں نے واضح کر دیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
 
انتظامیہ سے وابستہ ایک باخبر ذریعے نے تصدیق کی کہ اساتذہ کا ایک وفد طلبہ سے ملا اور ان کی صحت کے خدشات کے پیش نظر بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے جامعہ یونٹ کے سیکریٹری اور مظاہرین میں شامل سوربھ تریپاٹھی کے مطابق آن لائن کلاسیں شروع کر کے طلبہ کو کمروں تک محدود کرنے اور احتجاج کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے، جب کہ مذاکرات ایک کمیٹی کے ذریعے جاری ہیں لیکن اسی دوران طلبہ پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔