ایران نے ہندوستان، چین، عراق اور قطر کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں عائد سفری پابندیوں سے استثنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطۂ مغربی ایشیا میں تنازعہ کے پس منظر میں بحری گزرگاہوں پر نگرانی سخت کی جا رہی ہے۔
اس اقدام کی توثیق ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب چیئرمین امیر حیات־مقدّم نے منگل کے روز ایرانی طلبہ خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چار ممالک کے جہاز اس اسٹریٹجک آبی راستے سے “آزادانہ” گزر سکتے ہیں اور امریکی فورسز بھی انہیں نہیں روکتیں۔ امیر حیات־مقدّم نے وضاحت کی کہ یہ استثنا ایران کے ان ممالک کے ساتھ مفادات کے تحفظ اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ہندوستان کے جہازوں کی آمدورفت میں سہولت اس لیے دی جا رہی ہے کہ ہندوستان سے دواؤں کی درآمد کو تیز اور یقینی بنایا جا سکے، جب کہ چینی جہازوں کے لیے نرمی بیجنگ کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے تناظر میں کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران ہندوستانی اور چینی جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کر رہا ہے، جب کہ قطری جہازوں کو فیس سے بھی استثنا حاصل ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا عراقی جہازوں پر کوئی فیس عائد ہے یا نہیں۔
اس اعلان کا پس منظر یہ ہے کہ ایران نے حالیہ عرصے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی کشتی رانی پر شناخت، کارگو کی نوعیت اور منزل کے بارے میں معلومات فراہم کرنے جیسے تقاضوں کے ذریعے نگرانی سخت کر دی تھی۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کی بحری فورسز نے عبوری نظام نافذ کیا ہے جس کے تحت جہازوں کو تفصیلی معلومات دینا لازم قرار دیا گیا ہے تاکہ گزرنے کی اجازت مل سکے۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق فروری سے اگست کے درمیان کم از کم 70 حملے تجارتی جہازوں پر ریکارڈ ہوئے جن میں 19 ملاح ہلاک ہوئے۔
ہندوستان کے لیے یہ پیش رفت خصوصاً اہم ہے کیونکہ ملک اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 90% درآمد کرتا ہے اور ان میں سے لگ بھگ 30% درآمدات اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔
ماضی میں یہ انحصار 70% تک تھا، تاہم نئی دہلی نے مغربی ایشیا میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد روس، امریکہ، مغربی افریقہ اور متحدہ عرب امارات کے فجیرہ سے خریداری بڑھا کر راستوں کو متنوع بنایا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان کی ایل پی جی کی 90% درآمدات اسی گزرگاہ سے آتی ہیں اور قطر و یو اے ای سے آنے والی ایل این جی کی 50% سے زیادہ کھیپیں بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہیں۔
کھاد کی درآمد کے لیے بھی یہ گزرگاہ نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع وہ اہم آبی راستہ ہے جس سے مغربی ایشیائی ممالک سے نکلنے والی عالمی بحری خام تیل کی رسد کا تقریباً 25% گزرتا ہے۔ ایران کے فیصلے سے قبل پابندیوں اور جانچ کے سخت تقاضوں کے باعث جہاز رانی کی رفتار کم پڑی تھی، جس پر ہندوستان نے بارہا توانائی کی رسد میں رکاوٹیں دور کرنے اور عالمی آبی راستوں میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی۔







