ایران کے وزیر خارجہ عَباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مکالمہ اور وسیع تر مفاہمت کے دروازے کھولنے کی کوشش ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے خطے میں جنگ بھڑکنے کے امکان کو کسی طور مسترد نہیں کیا۔ یہ بیان ہفتہ کو اس وقت سامنے آیا جب انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک خط موصول ہوا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر تحریر کیا گیا ہے تاکہ مذاکرات کی بحالی اور مزید امریکی فوجی حملوں کی روک تھام کے لیے راستہ نکالا جا سکے۔ عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر واشنگٹن کا مقصد خط کے ذریعے محاذ آرائی یا اختلافات بھڑکانا ہے تو یہ سابقہ غلطیوں پر نئی غلطی کا اضافہ ہوگا، لیکن اگر نیت بامقصد مکالمے اور سمجھ بوجھ کی ہے تو ایران اس کو سنجیدگی سے لے گا۔
عراقچی کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ یہ خط ایرانی سلامتی کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضائی کو ارسال کیا گیا۔ دوسری جانب تہران میں تازہ حملوں کے خدشات کے سائے باقی ہیں اور وزیر خارجہ نے اشارہ دیا کہ ایران ہر ممکن منظرنامے کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول ایرانی مسلح افواج نے اپنی تیاریوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اسلحہ جدید کیا گیا ہے، کمزوریاں دور کی گئی ہیں اور نئے ہتھیار آزمائے گئے ہیں، اور افواج بلند ترین سطح کی آمادگی میں ہیں۔ ان کے مطابق ایران کسی بھی اشتعال یا حملے کا وقتِ ضرورت مناسب اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سفارتی محاذ پر پیش رفت کے تناظر میں ان کے مطابق دوحہ میں براہِ راست بات چیت کے لیے ایک امریکی وفد کی آمد متوقع ہے۔ قطر کی ثالثی میں خلیجِ فارس کی اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کی بندش اور دوبارہ کھولنے کے مجوزہ اقدام کے عملی نفاذ کی مدت پر تبادلۂ خیال ہوا ہے۔ عراقچی کے مطابق قطری فریق نے ابتدا میں نفاذ کی مدت کو 5 دن تک مختصر کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم اب ایک مجوزہ فارمولے پر عبوری اتفاق دیکھا جا رہا ہے جس کے تحت اس مدت کو 2 دن تک لایا جا سکتا ہے تاکہ جہازرانی اور علاقائی تجارت میں غیر ضروری تعطل نہ ہو اور اعتماد سازی کے اقدامات جلد اثر دکھا سکیں۔۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات کی شرائط بھی واضح کیں۔ ان کے مطابق ایران مطالبہ کر رہا ہے کہ اسلام آباد میمورینڈم کے بعد عائد کی گئی پابندیاں ختم کی جائیں، خطے میں امریکی افواج کی تعداد کم کی جائے، تیل کی برآمدات پر دی گئی پرانی چھوٹیں بحال ہوں اور ایران کے جتنے مالی اثاثے منجمد ہیں ان کی رہائی ہو، جن میں قطر میں موجود رقوم بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی مرحلہ وار بحالی انہی شرائط کے مطابق ہوگی اور اسی سے واشنگٹن کے ساتھ زیرِالتوا امور پر سنجیدہ مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔
اس دوران قطری اخبار العربی الجدید کے متعلق ٹائمز آف اسرائیل نے خبر دی ہے کہ بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کے بعد دوحہ میں براہِ راست بات چیت کا امکان بڑھ گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی اقدامات پر ایک فہمِ مشترک سامنے آیا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے بعض پہلو، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قواعد، اور تہران کے لیے مالی مراعات جیسے نکات شامل ہیں، جبکہ چین اور روس کسی ممکنہ سمجھوتے کے ضامن بننے پر آمادہ بتائے جاتے ہیں۔







