Friday, November 06, 2026 | 24 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • انڈر-19 ایشیا کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم کا اعلان، ڈِرَوِڈ اور سہواگ کے صاحبزادے بھی اسکواڈ میں شامل

انڈر-19 ایشیا کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم کا اعلان، ڈِرَوِڈ اور سہواگ کے صاحبزادے بھی اسکواڈ میں شامل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: editor | Last Updated: 30 Oct 2026

انڈر-19 ایشیا کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم کا اعلان، ڈِرَوِڈ اور سہواگ کے صاحبزادے بھی اسکواڈ میں شامل

عمان کی دارالحکومت مسقط میں 5 نومبر سے 14 نومبر تک منعقد ہونے والے اے سی سی منز انڈر-19 ایشیا کپ کے لیے انڈیا انڈر-19 کرکٹ ٹیم کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔ یہ اعلان جونئر کرکٹ سلیکشن کمیٹی نے کیا، جس کے مطابق ٹیم کی قیادت لکشے رائے چندانی کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ یشوردھن سنگھ چوہان نائب کپتان ہوں گے۔ ٹورنامنٹ کا میزبان شہر مسقط ہوگا اور تمام میچز عمان کرکٹ اکیڈمی گراؤنڈ میں کھیلے جائیں گے۔

اس انتخاب کی خاص بات یہ ہے کہ سابق ہندوستانی کپتان اور عظیم بیٹسمین راہُل ڈرَوِڈ کے صاحبزادے انوَیہ دِرَوِڈ اور ماضی کے جارح اوپنر ویرندر سہواگ کے بیٹے آریاویِر سہواگ کو بھی اسکواڈ میں جگہ ملی ہے، جس نے شائقین کی دلچسپی کو دوبالا کردیا ہے۔ سلیکٹرز کے مطابق انوَیہ دِرَوِڈ وکٹ کیپر بیٹر کے طور پر شامل ہیں، جبکہ راجت بگھیل بھی وکٹ کیپنگ کے متبادل کے طور پر منتخب کیے گئے ہیں تاکہ ٹیم کمبی نیشن میں لچک برقرار رہے۔ ٹیم میں وی کے وِنےیت، کُشاگر اوجھا، ارجن راجپوت، منال چوہان، وی یشویر، آریان ساوسانی، موہت اُلوَا، کاویا پٹیل، شَوِن وِنود اور ایشان سود جیسے باصلاحیت کھلاڑی بھی شامل ہیں، جنہیں بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

بھارتی ٹیم کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے جہاں اس کے ساتھ دفاعی چیمپئن پاکستان، متحدہ عرب امارات اور نیپال شامل ہیں۔ دوسری جانب گروپ بی میں بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان اور ملیشیا کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی، یوں ابتدائی مرحلے ہی سے سخت مقابلوں کی توقع ہے۔ بھارتی ٹیم اپنے گروپ مرحلے کا پہلا میچ 6 نومبر کو نیپال کے خلاف کھیلے گی ، دوسری بڑی ٹکر 8 نومبر کو روایتی حریف پاکستان سے ہوگاگی، جبکہ تیسرا اور آخری گروپ میچ 10 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے خلاف شیڈول ہے۔ ٹورنامنٹ فارمیٹ کے مطابق ہر گروپ سے سرفہرست 2 ٹیمیں 12 نومبر کو ہونے والے سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی، اور فاتح ٹیموں کے درمیان فیصلہ کن فائنل 14 نومبر کو کھیلا جائے گا۔

منتظمین نے بتایا کہ تمام میچز ایک ہی مقام پر رکھنے کا مقصد لاجسٹک سہولت، نیوٹرل پچ کنڈیشنز اور نشریاتی تقاضوں کو یکجا کرنا ہے تاکہ نوجوان کھلاڑی یکساں مواقع میں اپنی صلاحیتیں دکھا سکیں۔ ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ کا ماننا ہے کہ یہ پلیٹ فارم ابھرتے ہوئے کرکٹرز کے لیے خود کو منوانے اور اعلیٰ سطح کی کرکٹ کی طرف پیش قدمی کرنے کا سنہری موقع ہے۔ شائقین کی نظریں خاص طور پر انوَیہ دِرَوِڈ اور آریاویِر سہواگ کی کارکردگی پر مرکوز ہیں کہ وہ اپنے نامور والدین کی وراثت کے مطابق کھیڈ پیش کرتے ہیں یا نہیں۔ کرکٹ ماہرین کا خیال ہے کہ مضبوط بیٹنگ لائن، متوازن آل راؤنڈ آپشنز اور مؤثر پیس و اسپن اٹیک ہندوستان کو سیمی فائنل تک رسائی میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم ابتدائی میچوں میں مستحکم آغاز اور پاکستان کے خلاف ہائی پریشر مقابلے میں درست حکمت عملی فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ ٹیم انتظامیہ نے مزید کہا ہے کہ کنڈیشنز کے مطابق کمبی نیشن بدلا جا سکتا ہے، جبکہ فیلڈنگ معیار کو بہتر بنانا نمایاں ہدف ہوگا۔