ہندوستان میں کام کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ملک بھر میں نوجوان پیشہ ور افراد روزمرہ کے کام تیزی سے نمٹانے کے لیے مصنوعی ذہانت، یعنی اے آئی، سے مدد لے رہے ہیں۔ یہ رجحان تحقیق، ترجمہ، کاروباری ڈیٹا کے تجزیے اور قانونی دستاویزات کی درجہ بندی تک پھیل چکا ہے، مگر ساتھ ہی درستگی، مہارت اور ابتدائی سطح کی ملازمتوں کے مستقبل پر نئے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ نئی دہلی میں 28 سالہ صحافی فرح کاظمی نے بتایاکہ انہوں نے گِیٹڈ کمیونٹیز میں آوارہ جانوروں اور انہیں کھلانے کے قواعد پر خبر تیار کرتے وقت اے آئی سے سپریم کورٹ کی تازہ رہنما ہدایات، پرانے فیصلوں اور کتوں کے کاٹنے کے حالیہ واقعات تلاش کروائے۔ ان کے مطابق گوگل پر مخصوص عدالتی مواد ڈھونڈنے میں وقت لگتا ہے، اس لیے اے آئی نے ابتدا کا راستہ دکھایا، مگر اصل جانچ اور تصدیق انہوں نے خود کی۔ فرح کاظمی انگریزی اور ہندی کے بیانات کا باہمی ترجمہ بھی اے آئی سے کرواتی ہیں، لیکن خبرتراجم کی باریکیاں انسانی نگرانی چاہتی ہیں؛ ایک مثال میں “سورج” نام کو “سن” سمجھ کر جملے کا مفہوم بدل گیا تھا۔ ان کے مطابق، خبر سازی کی بنیادیات—لوگوں سے بات، فیلڈ رپورٹنگ اور تصدیق—اب بھی انسان ہی کرتا ہے، اے آئی محض وقت بچانے کا اوزار ہے۔ کنوریا کیمیکلز اینڈ انڈسٹریز میں 28 سالہ یجت مشرہ بتاتے ہیں کہ وہ اے آئی سے بڑے ڈیٹا کی چھان بین، خلاصہ سازی، ابتدائی مسودات اور پریزنٹیشنز کی ساخت بنواتے ہیں۔ لیکن چیلنج یہ ہے کہ کب اس پر بھروسا کیا جائے؛ کاروباری سیاق چھوٹ سکتا ہے یا اعداد و شمار غلط ہو سکتے ہیں، اس لیے نمبرز اور منطق کی پڑتال ضروری ہے۔ اسی طرح 30 سالہ وکیل رخشندہ ڈیکا کہتی ہیں کہ اے آئی دستاویزات کو ترتیب دینے، اہم تاریخوں کی فہرست اور معیاری درخواستوں کے مسودات میں مدد دیتی ہے، مگر یہ جھوٹی معلومات بھی پُراعتماد لہجے میں دے سکتی ہے، اس لیے ہر بات دہری جانچ مانگتی ہے۔ ان کی تشویش ہے کہ کچھ نووارد وکلا سوچنے کے بجائے اے آئی پر تکیہ نہ کرنے لگیں۔ رحجانات کے مطابق، ڈیلُوئٹ کے ایک سروے میں جنریشن زی کے 93 فیصد اور ملینیئلز کے 95 فیصد افراد روزمرہ کام میں اے آئی استعمال کرتے پائے گئے، جب کہ ایمیریٹس کے مطابق 15 تا 28 برس کے 82 فیصد نوجوان ہفتہ وار
- News
- »
- تعلیم و روزگار
- »
- ہندوستان کے نوجوانوں کے ساتھ نیا ساتھی: مصنوعی ذہانت
ہندوستان کے نوجوانوں کے ساتھ نیا ساتھی: مصنوعی ذہانت
Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: editor | Last Updated: 16 Oct 2026







