جموں و کشمیر میں وزرا کی کونسل کی توسیع پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اسے ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی، جس کا اعلان اور نفاذ منگل ہی کے روز ہوا، عوامی مسائل کے حل کے لیے نئی توانائی اور رفتار پیدا کرے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے 4 نئے وزرا کو حلف دلایا۔ حلف برداری کی یہ کاروائی سرینگر میں سرکاری پروٹوکول کے مطابق انجام پائی اور اس کے ساتھ ہی موجودہ کابینہ میں نمائندگی کے تناسب میں ایک قابلِ ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایک بہت اچھی کابینہ تبدیلی عمل میں آئی ہے، نئے وزرا کام کریں گے اور عوام کی مشکلات کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی ٹیم انتظامی سطح پر تیزی لائے گی اور زمینی سطح تک سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔
سرکاری اعلان کے مطابق جن 4 نئی شخصیات نے بطور وزیر حلف اٹھایا ان میں علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی، جنہیں عرف عام میں کلو کہا جاتا ہے، شامل ہیں۔ یہ چاروں چہرے وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے خطے میں سیاسی نمائندگی کے احساس کو مضبوطی ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں حکومتی ارکان، پارٹی رہنما اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جب کہ عوامی حلقوں میں اس اقدام کو انتظامی ڈھانچے میں تازہ خون شامل کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ تبدیلی کا مقصد محض چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ کارکردگی میں اضافہ اور عوامی ریلیف کی فراہمی ہے۔ ان کے بقول کابینہ کی توسیع سے محکموں کی تقسیمِ کار بہتر ہوگی، فیصلہ سازی میں تاخیر کم ہوگی اور حکومت کو اپنے پروگراموں پر موثر عملدرآمد کا موقع ملے گا۔ ان کے مطابق نئی ذمہ داریوں کے ساتھ نئے وزرا پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں ترجیحی بنیادوں پر عوامی مسائل جیسے بجلی، پانی، سڑکوں کی حالت، صحت و تعلیم کی سہولیات اور روزگار کے مواقع میں بہتری کے لیے اقدامات کریں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے کی گئی اس توسیع کے متعلق حکومتی ذرائع کا کے مطابق، یہ فیصلہ وسیع تر مشاورت کے بعد کیا گیا، تاکہ علاقائی تقاضوں اور سیاسی توازن کو ملحوظ رکھا جا سکے۔ اگرچہ اعلان میں پورٹ فولیوز کی تفصیل فوری طور پر عام نہیں کی گئی، لیکن توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی محکموں کی حتمی تقسیم کر دی جائے گی تاکہ نئی ٹیم عملی طور پر کام شروع کر سکے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وادی سے تعلق رکھنے والے 4 وزرا کی شمولیت سے امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور مقامی ضروریات کے مطابق پالیسی سازی میں علاقائی نقطۂ نظر کو تقویت ملے گی۔ ساتھ ہی یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ زمینی سطح پر رابطہ کاری بہتر ہوگی اور شکایات کے ازالے کے نظام میں سرعت آئے گی۔ عوامی دلچسپی کے بڑے منصوبوں، خصوصاً شہری انفراسٹرکچر، دیہی ترقی اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگراموں کو بھی اس نئی سیاسی توانائی سے فروغ ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔






