غزہ سٹی کے دیئر البلح میں 17 اکتوبر کو ایک اسرائیلی فضائی حملے نے اسکول سے گھر لوٹتے 14 سالہ محمد حماد کی جان لے لی۔ محمد اپنے عارضی اسکول میں دن کی کلاسیں ختم کرکے اپنے 10 سالہ بھائی عبداللہ کے ساتھ محلہ البرکہ سے پیدل گزر رہا تھا کہ سڑک پر نشانہ بننے والے حملے میں وہ ایک اور شخص کے ساتھ موقع پر ہلاک ہوا جبکہ عبداللہ زندہ بچ گیا۔ محمد، 44 سالہ ریاض حماد کا تیسرا بچہ تھا، آٹھویں جماعت کا ہونہار طالب علم جس کے اساتذہ اسے اپنی جماعت کے نمایاں طلبہ میں شمار کرتے تھے۔ سوگوار والد کا مسکن عارضی خیمہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ محض بیٹا نہیں، میرا دوست تھا، وہ بہت اچھا پڑھ رہا تھا، خدا اس پر رحم کرے۔۔۔
خاندان اس معصوم کے اچانک بچھڑ جانے کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے جس کی محنت اور تعلیمی کامیابیاں ان کے لیے فخر کا باعث تھیں۔ ریاض کے بقول محمد اکثر پوچھتا تھا: میں کیسا کر رہا ہوں؟ اور میں نے اسے کبھی اس سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کیا۔ اس سانحے نے عبداللہ کے دل پر بھی گہرا اثر چھوڑا ہے، اب اسے اپنے والد کو کھو دینے کا ڈر لاحق رہتا ہے اور وہ اسکول جانے سے گھبراتا ہے کیونکہ وہ دونوں روز ساتھ جاتے اور ساتھ لوٹتے تھے، اب وہ اکیلا جانے کے تصور سے سمجھوتہ نہیں کر پا رہا۔ ریاض کہتا ہے کہ ہم خوف میں جی رہے ہیں، میں جب سڑک پر نکلتا ہوں تو ڈر لگتا ہے، چلتے یا گاڑی میں بیٹھے دل دھڑکتا رہتا ہے۔ بچوں کو آخر کب تک اس دہشت اور بے یقینی میں رکھا جائے؟ اس نے درد بھری آواز میں کہا کہ فطری دستور الٹ دیا گیا ہے، بیٹا باپ کو دفنانے کے لیے پیدا ہوتا ہے، یہ کیسا وقت ہے کہ باپ بیٹے کو سپرد خاک کرے۔۔۔۔
غزہ میں سالہا سال کی معطلیوں کے بعد عارضی کلاس رومز اور خیموں میں اسکولوں کی بتدریج بحالی نے خاندانوں میں معمولات لوٹنے کی ایک ہلکی سی امید جگائی تھی، مگر اکتوبر میں نافذ کیے گئے جنگ بندی انتظام کے باوجود فضائی حملے اور سنائپر فائرنگ کا سلسلہ رکا نہیں۔ محصورہ علاقے کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں کم از کم 1,574 فلسطینی ہلاک اور 5,687 زخمی ہو چکے ہیں۔ تعلیمی سال 19 ستمبر کو تقریباً تین برس کی رکاوٹوں کے بعد دوبارہ شروع ہوا، لیکن اس کے ساتھ ہی حملوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔ 18 سے 24 اکتوبر کے درمیان 6 سے 16 سال تک کے 10 بچے اور ایک استاد جان سے گئے۔ پچھلے اتوار وزارت تعلیم نے بتایا کہ 21 اکتوبر کو جبالیہ کی مرادیہ اسکول میں صبح کی اسمبلی کے دوران دو بچیاں زخمی ہوئیں، اسی روز غزہ سٹی میں اسلامک یونیورسٹی کے احاطے پر ایک حملے میں پانچ طلبہ بھی زخمی ہوئے جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔ وزارت نے طلبہ، اسکولوں اور جامعات کے تحفظ کے لیے فوری بین الاقوامی اقدام کی اپیل کی ہے۔۔۔۔۔
خاص طور پر وہ تعلیمی مراکز زد میں ہیں جو نام نہاد پیلی لکیر کے نزدیک واقع ہیں۔ یہ وہ حدِ فاصل ہے جو اکتوبر 2025 کے جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ کی زمین کو اسرائیلی اور فلسطینی کنٹرول میں بانٹتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ لکیر گزشتہ سال کے 53 فیصد کے مقابلے میں مزید مغرب کی طرف سرکی ہے اور اب اسرائیل کے کنٹرول میں 65 فیصد سے زائد رقبہ آ چکا ہے۔ اسی خطے کے قریب کم از کم 66 فلسطینی بچے مارے جا چکے ہیں اور اس زون کے آس پاس سفر کرنے والے طالب علم اور اساتذہ سنائپر گولیوں اور بمباری کے مہلک خطرے سے دوچار ہیں۔۔۔۔
21 اکتوبر کو جبالیہ کی چوتھی جماعت کی طالبہ سواد عبدربو اپنا بستہ اور کتابیں لے کر اسکول پہنچی ہی تھی کہ کچھ دیر بعد اس کی بڑی بہن گھبراہٹ میں گھر لوٹی اور چیختی ہوئی اطلاع دی کہ سواد کو گولی لگی ہے۔ سواد کی والدہ عالیہ عبدربو نے بتایا کہ میں ننگے پاؤں بھاگی، اسے خون میں لت پت، چیختے روتے دیکھا تو سمجھ نہ آیا کیا کروں۔







