Friday, November 06, 2026 | 24 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • مہاراشٹر میں سیاسی حریف ایک اسٹیج پر: فڑنویس اور ٹھاکرے کزنز نے ہنسی مذاق اور ہلکے پھلکے سیاسی جملے کہے

مہاراشٹر میں سیاسی حریف ایک اسٹیج پر: فڑنویس اور ٹھاکرے کزنز نے ہنسی مذاق اور ہلکے پھلکے سیاسی جملے کہے

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: editor | Last Updated: 30 Oct 2026

مہاراشٹر میں سیاسی حریف ایک اسٹیج پر: فڑنویس اور ٹھاکرے کزنز نے  ہنسی مذاق اور ہلکے پھلکے سیاسی جملے کہے

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور دلچسپ لمحہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس، شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما ادھو ٹھاکرے اور ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے ایک ہی اسٹیج پر جمع ہوئے۔ یہ ملاقات ممبئی میں کتاب “مہاراشٹراچیا ہسیاریشا” کی رسمِ اجراء کے موقع پر ہوئی، جس کا موضوع مرہٹی سیاسی کارٹونز کی تاریخ اور ان کی روایت ہے۔ بی جے پی اور متحدہ شیوسینا کے درمیان 2019 میں وزیراعلٰی کے عہدے پر اختلاف کے باعث راہیں جدا ہوئیں، مگر اس تقریب میں نوک جھونک، قہقہوں اور خوشگوار جملوں کی کمی دکھائی نہیں دی۔ تقریب میں موجود حاضرین اور ادبی و صحافتی برادری کے نمائندوں نے دیکھا کہ کس طرح تلخ سیاسی رقابت کے باوجود ثقافتی اظہار اور مزاح نے ماحول کو ہلکا رکھا۔

دیویندر فڑنویس نے اسٹیج پر آتے ہی اپنے اوپر بھی چٹکلے کسے اور ٹھاکرے کزنز پر بھی ہنسی مذاق کے تیر آزمائے۔ راج ٹھاکرے کی بات کے بعد بولتے ہوئے انہوں نے پرانی ملاقات یاد دلائی کہ ایک پروگرام میں انہوں نے راج سے فرمائش کی تھی کہ اگر وہ کبھی ان کا کیریکچر بنائیں تو ناک یا کان بڑے دکھا دیں، مگر پیٹ کو بخش دیں۔ فڑنویس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ راج نے اس اصرار کو سمجھا اور اس کے بعد ان کا پیٹ اتنا بڑا نہیں کھینچا، مگر دوسرے کارٹونسٹ اس نرمی کے قائل نہیں ہوئے اور پیٹ کو بڑا ہی بناتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے پیٹ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ کارٹونسٹ اب اس معاملے میں انہیں کچھ ریایت دیں گے۔ اس لطیفے پر سامعین کے ساتھ ساتھ اسٹیج پر موجود قائدین نے بھی مسکراہٹ چھپانا مناسب نہ سمجھا۔

فڑنویس نے ادھو ٹھاکرے کے ساتھ اپنے سیاسی تعلق پر بھی ہلکے پھلکے انداز میں چوٹ کی۔ ان کے مطابق 2019 تک جب بھی ادھو جی فون کرتے تھے، وہ فوراً پہنچ جاتے تھے، لیکن 2019 کے بعد وہ منتظر ہی رہے اور ادھو کا فون نہ آیا۔ اس جملے نے سیاسی بساط کی تلخیوں کو یاد دلایا، مگر بیان کا اسلوب ایسا تھا کہ محفل کی شگفتگی برقرار رہی۔ یہ اشارہ اس سیاسی موڑ کی طرف تھا جب مخلوط سیاست کے سود و زیاں میں اتحادی راہیں جدا کر گئے۔

وزیراعلیٰ نے دونوں ٹھاکرے قائدین کے فنون کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ راج ٹھاکرے اپنے کیریکچر آرٹ کے سبب ممتاز ہیں اور ادھو ٹھاکرے فوٹوگرافی کے ہنر میں پہچان رکھتے ہیں۔ اسی تسلسل میں انہوں نے اپنے بارے میں لطیفہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ اور نہیں جانتے، اس لیے سیاست ہی کرتے ہیں، اور درخواست کی کہ انہیں سیاست کرنے دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاست ہی سمجھ میں آتی ہے، اس لیے وہ اسی میدان میں کام کرتے ہیں، جبکہ راج کی کارٹوننگ اور ادھو کی فوٹوگرافی اپنی جگہ مسلمہ صلاحیتیں ہیں۔ اس خودتنقیدی اور تعریف کے امتزاج نے سیاسی اختلاف کو تہذیبی شائستگی میں ڈھال دیا۔

تقریب کا پس منظر بھی معنی خیز تھا۔ “مہاراشٹراچیا ہسیاریشا” کے ذریعے مرہٹی سیاسی کارٹونز کے ارتقاء، اس کے بڑے ناموں اور عوامی شعور پر ان کے اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں سیاسی کارٹون طویل عرصے سے عوامی مباحثے کا آئینہ رہے ہیں، جو بے باکی سے اقتدار کے مراکز پر تنقید کرتے اور سماجی مزاج کو لطیف اشاروں میں بیان کرتے آئے ہیں۔ اسی روایت کی جھلک اس شام بھی دکھائی دی جب سیاست اور طنز و مزاح کے دوران باریک لکیر کو فن نے خوشگوار رنگ دیا۔

اگرچہ اس پروگرام کا محور ادبی و ثقافتی نوعیت کا تھا، مگر موجودہ سیاسی تناظر اس سے الگ نہ رہا۔ 2019 کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں نئے اتحاد اور تقسیم کے باب کھلے، عدالتوں اور اسمبلی کی کشاکش نے کئی رخ لیے، اور قیادتوں کے دوران بیانیے تبدیل ہوئے۔