قومی راجدھانی دہلی میں آج رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ریلی منعقد ہو رہی ہے، جس میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما، کارکنان، طلبہ تنظیموں کے نمائندے اور سیول سوسائٹی کے اراکین کی شرکت متوقع ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ اجتماع صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک کے طے شدہ وقت میں ہوگا، جس کا آغاز کنوٹ پلیس سے ریلی کی شکل میں ہوگا اور یہ جلوس منٹو روڈ جنکشن سے گزر کر اجمیری گیٹ کے راستے رام لیلا میدان پہنچے گا۔ اپوزیشن کی سرکردہ قیادت، جن میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو شامل ہیں، آج کے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے عوام سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے تاکہ اپوزیشن کے مطالبات اور پیغام کو مضبوط آواز مل سکے۔
ریلی کے پیش نظر دہلی پولیس نے سیکورٹی اور ٹریفک کے غیر معمولی انتظامات نافذ کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق 4000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی 270 کمپنیوں کی ڈیوٹی کی مدت میں توسیع کے ساتھ انہیں بھی میدان، مارچ روٹ اور اطراف کے علاقوں میں لگایا گیا ہے۔ سیکورٹی پلان کے تحت پروگرام کے مقام کو 14 زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور 200 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ بھیڑ کی نقل و حرکت اور ممکنہ ہنگامی صورتحال پر فوری نظر رکھی جا سکے۔ ایک افسر نے بتایا کہ ہر زون کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس رینک کے افسران کریں گے، جب کہ 2 حساس زون ایڈیشنل ڈی سی پی رینک کے افسران کے سپرد ہیں اور سینئر کمان روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے۔
پولیس کمشنر انوراگ کمار نے ہفتہ کے روز منٹو روڈ اور رام لیلا میدان کا دورہ کر کے سیکورٹی انتظامات کا معائنہ کیا، اس موقع پر اسپیشل کمشنر، جوائنٹ کمشنر اور وسطی دہلی و نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنران سمیت متعلقہ اضلاع کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ حکام کے مطابق ریلی میں 45 ہزار سے 50 ہزار افراد کی آمد متوقع ہے، تاہم کرسیاں لگانے، حصار بندی اور گزرگاہیں بنانے کے بعد میدان میں ایک وقت میں تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار افراد کو جگہ دی جا سکے گی، جبکہ بھیڑ سے بچاؤ اور بھگدڑ کے خدشات کم کرنے کے لیے اضافی کھلا اسپیس رکھا گیا ہے۔ اگر آمد متوقع حد سے بڑھتی ہے تو لوگوں کو میدان کے باہر مقررہ مقامات پر بٹھایا جائے گا جہاں اسکرینز اور لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے تقاریر سنوائی جائیں گی۔
داخلے کے لیے متعدد گیٹس مقرر کیے گئے ہیں جہاں میٹل ڈیٹیکٹر، باڈی اسکینر اور دستی تلاشی کے ذریعے سکیورٹی چیک کیا جائے گا۔ وی آئی پی شخصیات کے لیے الگ داخلی راستے رکھے گئے ہیں، جب کہ عام شرکا سے گزارش ہے کہ وہ کم سے کم سامان ساتھ لائیں اور پولیس و رضاکاروں کی ہدایات پر عمل کریں۔ رام لیلا میدان کے اندر ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈیسک، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ وال اور ہنگامی رابطہ پوائنٹس فعال رکھے گئے ہیں۔ پولیس نے فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں، واٹر کینن، ڈرون نگرانی کے آلات اور فوری طبی امداد کے یونٹس بھی تیار رکھے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت میں بروقت ردعمل ممکن ہو۔۔۔ ٹریفک پولیس نے مختلف چوراہوں پر روٹ ڈائیورشن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، البتہ پیدل چلنے والوں کے راستے کھلے رہیں گے۔







