ممبئی میں بامبے ہائی کورٹ نے منگل 27 اکتوبر 2026 کو اداکار عمران خان کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے ممبئی کے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس کی جانب سے جاری ’انڈیا چھوڑو نوٹس‘ کی عمل آوری 2 نومبر تک روک لگا دی ہے۔ چیف جسٹس مہیش چندر تریپاٹھی کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے اس معاملے کی سماعت پیر کو دوپہر 3:00 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اگلی سماعت تک نوٹس معطل تصور ہوگا۔ عدالت نے مرکز کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انیل سی سنگھ کی زبانی یقین دہانی بھی ریکارڈ کی کہ نوٹس عارضی طور پر معطل رکھا جائے گا، جس کے بعد باضابطہ طور پر حکمِ امتناعی جاری کیا گیا۔
یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آیا کہ امریکی شہری اور اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ ہولڈر عمران خان نے ہائی کورٹ سے رجوع کر کے اس نوٹس کو چیلنج کیا تھا جس کی بنیاد 10 اکتوبر کو ممبئی کے آگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر جیانیش کمار کے خلاف مبینہ احتجاج میں اُن کی شرکت کو قرار دیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے مطابق اُن پر لگایا گیا الزام حقائق کے برعکس ہے اور وہ اس احتجاج میں شریک ہی نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا کہ انہیں سنے بغیر، کسی انکوائری کے، شوکاز نوٹس یا جواب دینے کے موقعے کے بغیر یہ اقدام کیا گیا، جو آئینِ ہند کے آرٹیکل 14 اور 21 میں دیے گئے مساوات اور شخصی آزادی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
سماعت کے آغاز میں بنچ نے سالیسٹر جنرل کی حاضری کے لیے 10 منٹ کی مہلت دی اور اس وقفے کے دوران ایک اور مقدمہ لیا، جس کے بعد کاروائی دوبارہ شروع ہوئی۔ عمران خان کی طرف سے سینیئر وکیل وینکٹیش دھونڈ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ایف آر آر او ممبئی کی جانب سے جاری نوٹس میں امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 یا سٹیزن شپ ایکٹ 1955 کی کسی مخصوص دفعہ کی خلاف ورزی کی نشاندہی تک نہیں کی گئی۔ وکیلِ دفاع کے مطابق اگر کوئی مبینہ خلاف ورزی سامنے آئے تو بھی قانونی تقاضہ یہی ہے کہ پہلے وجہ بتاؤ نوٹس دیا جائے اور باقاعدہ سماعت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے، جب کہ یہاں یہ بنیادی مراحل اختیار نہیں کیے گئے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ چونکہ سرکار کی جانب سے نوٹس کو فی الحال معطل رکھنے کی زبانی یقین دہانی دی گئی ہے، اس لیے انصاف کے تقاضوں کے تحت درخواست گزار کو عبوری تحفظ دیا جاتا ہے۔ اس عبوری حکم کے نتیجے میں عمران خان کو نوٹس میں درج آخری تاریخ 28 اکتوبر کے بعد بھی ہندوستان میں قیام کی قانونی مہلت حاصل ہوگئی ہے، جب کہ اگلی سماعت 2 نومبر کو مقرر ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ اس معاملے کے پس منظر میں ایک سیاسی طور پر محرک شکایت درج کی گئی جس کے بعد انتظامیہ نے جلد بازی میں اقدام کیا۔ عمران خان نے یہ بھی نشاندہی کی کہ انہیں ایک تازہ نوٹس موصول ہوئی ہے جس میں اُن کے او سی آئی کارڈ کی منسوخی پر وجہ بتانے کو کہا گیا ہے، جب کہ ضابطے کے مطابق اس نوعیت کے فیصلوں میں تناسب اور قدرتی انصاف کے اصولوں پر سختی سے عمل ضروری ہے۔
آگست کرانتی میدان والے واقعے کے متعلق سرکاری فریق نے عدالت میں تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے، البتہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے کہا کہ حکومت آئندہ سماعت تک نوٹس کو مؤخر رکھے گی اور معاملے پر موقف رکھنے کے لیے مہلت درکار ہے۔







