جموں و کشمیر کی سیاست میں نئی ہلچل اس وقت سامنے آئی جب نیشنل کانفرنس کے رہنما آغا روح اللہ مہدی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اور اسی پس منظر میں ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چودھری نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کی ایک منظم حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہ بیان بدھ کے روز سامنے آیا، جب وادی اور جموں کی سیاسی فضاء میں چہ مگوئیاں تیز ہوئیں کہ ریاست کی قدیم اور مرکزی جماعت اندرونی دباؤ اور بیرونی مداخلت کے دوہرے چیلنج سے گزر رہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق سیاسی وفاداریوں میں دراڑ ڈالنے، اتحادوں کو متزلزل کرنے اور قیادت پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، جو نہ صرف انتخابی ماحول بلکہ ممکنہ حکومتی تشکیل کے امکانات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس رجحان کو فوری طور پر روکا نہ گیا تو عوامی مینڈیٹ کی ترجمانی کرنے والی جمہوری نمائندگی متاثر ہوگی اور ادارہ جاتی سیاست میں غیر یقینی پن بڑھ جائے گا۔
سریندر چودھری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم سوال بھی اٹھایا کہ کیا غلام نبی آزاد، آغا روح اللہ اور رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید مل کر نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی اپنی حکمتِ عملی کے تحت ان تین چہروں کو ایک سیاسی فوریہ میں استعمال کر رہی ہے، اور یہی تین چہرے ممکنہ طور پر ایک نئی جماعت کو جنم دے سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی مسلسل نیشنل کانفرنس کی صفوں میں بے چینی پیدا کرنے، قیادت کی ساکھ کو چیلنج کرنے اور تنظیمی ڈھانچے میں کمزور کڑیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے، اور روح اللہ کے استعفے نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا کہ مخالفانہ دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل انتخابی سیزن کے قریب آتے ہی زیادہ شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے اتحاد سازی، نشستوں کے بٹوارے اور آئندہ حکومت کی تشکیل کے لئے مطلوبہ عددی توازن پر براہِ راست اثر پڑے گا۔
نیشنل کانفرنس کے اندر سے بھی اس پیش رفت پر سخت ردِعمل آیا۔ پارٹی کے رکنِ اسمبلی سلمان ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی کوششیں اس حد تک کامیاب رہیں کہ آغا روح اللہ پارٹی سے فاصلہ اختیار کرنے پر آمادہ ہوئے۔ ان کے مطابق روح اللہ کو چاہیے تھا کہ وہ اختلافات اور شکایات کو ادارہ جاتی فورمز پر رکھ کر اندرونِ خانہ سیاسی لڑائیاں لڑتے، کیونکہ پارٹی کا اجتماعی مینڈیٹ اور تنظیمی قوت فردِ واحد کے فیصلے سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جب 50 ایم ایل ایز کا جمہوری مینڈیٹ موجود ہو تو حل مکالمے، مفاہمت اور اندرونی مزاحمت سے نکالا جانا چاہیے، باہر نکل کر الگ راستہ اختیار کرنا تنظیمی یکجہتی کے لیے مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔ سلمان ساگر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ روح اللہ نے کتنی بار اپنے مسائل ارکانِ اسمبلی اور اعلیٰ قیادت کے سامنے رکھے اور کیا داخلی مشاورت کے تمام مراحل پورے کیے گئے۔
تاہم بی جے پی نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما اور ترجمان الطاف ٹھاکر نے منصف ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آغا روح اللہ مہدی کے پارٹی سے الگ ہونے میں بی جے پی کا کوئی کردار نہیں، اور نیشنل کانفرنس محض سیاسی خوف اور دباؤ کے تاثر کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی اپنے ترقیاتی ایجنڈے، نظم و نسق کی مضبوطی اور شفاف طرزِ حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، اس لیے دوسری جماعتوں کے اندرونی فیصلوں کو بی جے پی کی حکمتِ عملی سے جوڑنا غیر منصفانہ ہے۔ الطاف ٹھاکر نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس اپنے داخلی انتشار اور فیصلہ سازی کے مسائل کو چھپانے کے لیے الزام تراشی کا سہارا لے رہی ہے، جبکہ بی جے پی عوامی مسائل جیسے روزگار، بنیادی ڈھانچے اور امن و امان پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔






