جمعہ 30 اکتوبرکوایڈن پارک میں کھیلے گئے چوتھے ٹی20 بین الاقوامی میچ میں ہندوستان کے تیز گیند باز اَرشدیپ سنگھ نے تاریخ رقم کر دی۔ انہوں نے ٹی20 انٹرنیشنل میں اپنی 150 وکٹیں مکمل کر کے یہ منفرد سنگ میل عبور کیا اور یوں وہ اس فارمیٹ میں 150 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے بھارتی بولر بن گئے۔
یہ کارنامہ انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کی پہلی اننگز کے 19ویں اوور میں اس وقت انجام دیا جب انہوں نے کیوی کپتان مچل سینٹنر کو آؤٹ کیا۔ اَرشدیپ نے آف اسٹمپ کے باہر فلر لینتھ کی گیند پھینکی جسے سینٹنر نے زور سے کور باؤنڈری کی سمت کھیلا، مگر گیند سیدھی سوئیپر کور کے ہاتھوں میں چلی گئی اور وہ صرف 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ اس وکٹ کے ساتھ ہی اَرشدیپ نہ صرف ہندوستان کے پہلے بلکہ عالمی سطح پر مجموعی طور پر نویں ایسے کھلاڑی بنے جنہوں نے بین الاقوامی ٹی20 میں 150 وکٹوں کا سنگ میل عبور کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق وہ دنوں کے حساب سے اس کارنامے تک پہنچنے والے سب سے تیز بولر بھی قرار پائے ہیں، جس نے ان کی مستقل مزاجی اور کارکردگی کے تسلسل کو مزید نمایاں کر دیا۔ اگرچہ اس میچ میں بیٹنگ حالات بیٹرز کے لیے سازگار بتائے جا رہے تھے، ایڈن پارک کی مختصر باؤنڈریز کے باوجود اَرشدیپ نے اپنی لائن و لینتھ اور اسمارٹ ویری ایشنز سے اہم لمحات میں ٹیم کو پیشرفت فراہم کیے۔
یہ میچ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان چوتھا ٹی20 انٹرنیشنل تھا، جو آکلینڈ کے ایڈن پارک میں کھیلا گیا، اور اسی میدان پر اَرشدیپ نے اپنے بین الاقوامی ٹی20 کریئر کے ایک یادگار باب پر مہر ثبت کی۔ ٹیم انڈیا نے انہیں ڈیتھ اوورز میں نمایاں ہتھیار کے طور پر آزمایا اور انہوں نے 19واں اوور سنبھالتے ہی پہلی ہی منصوبہ بندی کے مطابق فلر لینتھ پر گیند پھینکی تاکہ کیوی کپتان کو بڑا شاٹ کھیلنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ جس کے نتیجے میں سینٹنر دباؤ میں غلط شاٹ کھیل بیٹھے اور میدان میں تعینات فیلڈر نے محفوظ کیچ کے ساتھ وکٹ کی تکمیل کی۔
اَرشدیپ کے اس سنگ میل کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہندوستان کے کئی معروف بولرز اس فارمیٹ میں خاصی کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں، مگر 150 وکٹوں تک رسائی کا اعزاز ابھی تک کسی کے حصے میں نہیں آیا تھا۔ اس کامیابی سے ٹیم انڈیا کے ڈیتھ اوورز کے منصوبہ سازانہ کمبی نیشن کی بھی تائید ہوتی ہے، جس میں یارکرز، سلوورز اور ہارڈ لینتھ کے امتزاج سے مخالف بیٹرز کو الجھایا جاتا ہے۔
اَرشدیپ نے اپنی فٹنس، رفتار میں تنوع اور سوئنگ کی صلاحیت کو جوڑ کر ایک ایسا پیکیج تیار کیا ہے جو مختصر فارمیٹ میں مستقل طور پر وکٹیں دلا رہا ہے۔ اس سنگ میل کے پس منظر میں ماہرین کے مطابق ٹی20 کرکٹ میں بولرز کے لیے اعداد و شمار بنانا مشکل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ کم اوورز اور جارحانہ بیٹنگ کے سبب غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ لیکن اَرشدیپ نے دباؤ کے انہی حالات میں خود کو منوایا ہے۔
انہوں نے اکثر میچوں میں نئی گیند سے شروع کر کے اختتامی اوورز تک ذمہ داری نبھائی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ اہم وکٹیں سمیٹ کر ٹیم کے لیے راستہ ہموار کرتے رہے ہیں۔ ان کی بولنگ میں ڈیتھ اوورز کے مخصوص ہتھیار، جیسے کہ کریز کے زاویے کا استعمال، وائڈ یارکر اور سلوور باؤنسر، خصوصی طور پر نمایاں ہیں۔ آج کے میچ میں مچل سینٹنر کی وکٹ ان کی حکمت عملی کی مثال بنی۔
ہند۔ نیوزی لینڈ کےدرمیان کھیلئے گئے چوتھے ٹی 20آئی میں مہمان ٹیم نیوزی لینڈ نے بھارت کو87 رنز سے شکست دی ۔ نیوزی لینڈ نے پہلے بلےبازی کرتے ہوئے ریکارڈ 259 رنز،7وکٹ کے نقصان پر بنائے ۔ جواب میں بھارتی ٹیم 20اووز میں صرف172رنز9وکٹ کھوکر بنائے۔اس طرح یہ میچ کیوز نے جیت لیا۔ واضح رہےکہ بھارتی ٹیم نے 5 میچوں کی سیریز پہلے ہی جیت چکی ہے۔ اب سیریز میں ٹیم 3۔اور نیوزی لینڈ کے میچ جیت چکےہیں۔ سیریز کا آخری میچ ہونا باقی ہے۔






